غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر عمل جاری ہے ۔ مقبوضہ علاقے میں تباہ ہونے والی عمارتوں سے لاپتہ افراد کی لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ 15 ماہ کے دوران غزہ میں بربریت اور نسل کشی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔کوئی خاندان ایسا نہیں جس کا اپنا شہید یا لاپتہ نہ ہوا ہو۔
غزہ کی وزارت تعمیرات عامہ کے انڈر سیکرٹری ناجی سرحان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی کی شمالی گورنری میں 80 فیصد عمارتیں تباہ کر دی ہیں، جس سے 3 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور عمارتوں کے ملبے میں اپنے لاپتہ اہل خانہ کی تلاش کررہے ہیں۔
گزشتہ دو روز کے دوران ملبے سے کم و بیش 120 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارےمیں کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جنین میں صیہونی فوج نے 10 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔
اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی ایجنسی شین بیت کے اس مشترکہ قتل عام کو صیہونی حکومت نے آئرن وال (آہنی دیوار) کا نام دیا ہے۔











