امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف تحقیقات کرنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
وائس آف امریکا کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حکم نامے میں عالمی عدالت انصاف پر امریکہ اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کے ناجائز اور بے بنیاد اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام عائد لگایا ہے۔
ٹرمپ کے حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے پاس امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ۔ اس کے باوجود اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے بے بنیاد وارنٹ گرفتاری جاری کر کے اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا۔
جنوبی افریقا نے غزہ میں جنگی جرائم پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا۔
ٹرمپ کے حکم نامے پر جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کا کہنا ہے کہ فلسطینی دہائیوں کے غیر قانونی قبضے کو برداشت کرنے کے بعد اب ناقابل بیان مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں جنوبی افریقی صدر نے کہا کہ ان کے ملک نے نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف کارروائی شروع کر کے کام کیا ہے۔











