اہم ترین

نیپال میں ’جین-زی‘ کا انقلاب: صدر اور وزیراعظم مستعفی

نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی نے نئے انقلاب کی داغ بیل ڈال دی۔۔ نوجوانوں کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ۔ دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت کئی بڑے شہروں میں عوام سرکاری و سیاسی دفاتر، اہم شخصیات کی رہائش گاہوں اور نجی املاک ہوٹلوں پر حملے کررہے ہیں۔

نیپال کی حکومت نے گزشتہ ہفتے فیس بک، انسٹاگرام ، ایکس اور یوٹیوب سمیت 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ملک میں رجسٹر نہ ہونے پر بند کردیا تھا۔

حکومتی اقدام کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ نیپالی حکومت نے صورت حال سے نمٹنے کے لئے کرفیو بھی نافذ کیا لیکن اس کے باوجود ہنگاموں میں کمی نہ آئی۔

اس دوران کئی اہم سیاستدانوں کی رہائش گاہوں پر حملہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی، جن میں مستعفی ہونے والے وزیراعظم اولی اور سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کے مکانات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

نیپال میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کرنے کے باوجود دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور کابینہ کے تین ارکان کے بعد منگل کو ملک کے وزیراعظم کے پی شرما اولی اور صدر بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔

عبوری وزیر اعظم کے لیے کھٹمنڈو کے میئر بالین شاہ کا نام سامنے آیا ہے۔ مظاہرین بھی ان کے نام کی حمایت میں ہیں

دارالحکومت کے کئی علاقوں میں مسلسل پتھراؤ اور پولیس سے جھڑپیں جاری ہیں۔ کئی جگہوں پر فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود احتجاج کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان