بیلجین پولیس نے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور اور دیگر سیاسی شخصیات پر ڈرون کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے 3مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق بیلجیئم کی وفاقی پراسیکیوٹر این فرانسن کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف دہشت گردی کے ارادے سے قتل کی کوشش اور دہشت گرد گروہ میں شمولیت” کے الزامات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان جہادی نظریات سے متاثر ہو کر سیاسی شخصیات کے خلاف دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ملزمان ایک ایسا ڈرون تیار کرنے کا ارادہ رکھتے تھے جس میں دھماکا خیز مواد نصب کیا جا سکے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کو بارٹ ڈی ویور کی رہائش گاہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک عمارت سے دھماکا خیز مواد ملا، جو اس سازش کا واضح ثبوت ہے۔
اگرچہ حکام نے باضابطہ طور پر کسی ہدف کا نام نہیں لیا، تاہم حکومتی شخصیات کی سوشل میڈیا پوسٹس سے واضح ہوتا ہے کہ وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نشانہ تھے۔
بیلجیئم کے نائب وزیراعظم میکسم پرویٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ میں وزیراعظم، ان کی اہلیہ اور خاندان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتا ہوں اور ان سیکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بروقت کارروائی کر کے بڑے نقصان کو روکا۔
وزیر دفاع تھیو فرانکن نے بھی اپنے پیغام میں کہا سیکیورٹی اداروں کا شکریہ۔ ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے۔
دوسری جانب تاحال وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔











