اٹلی کی حکومت ملک میں نقاب پر پابندی عائد کرنے کے لیے تیزی سے قدم اٹھا رہی ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد صرف نقاب پر پابندی لگانا نہیں ہے، بلکہ کنوارہ پن کی جانچ کو بھی غیر قانونی قرار دینے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
برطانوی اخبار ‘دی سن’ کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت کا کہنا ہے کہ نقاب پر پابندی کا بل لانے کا فیصلہ “اسلامی علیحدگی پسندی” کو ختم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
بل کے قانون بنتے ہی برقع (نقاب) پہننے پر پابندی لگ جائے گی۔اگر کوئی شخص اس پابندی کے بعد بھی عوامی مقامات جیسے اسکولوں، دکانوں، دفاتر اور یونیورسٹیوں میں برقع یا نقاب پہنتا ہے، تو اس پر کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
برسر اقتدار سیاسی جماعت برادرز آف اٹلی کے رکن پارلیمنٹ گیلیجو بگنامی کے مطابق، اس بل کا مقصد تمام قسم کی شورش پسندی کو ختم کرنا اور اٹلی میں یکساں سماج قائم کرنا ہے، تاکہ ملک میں “متوازی طبرز معاشرت نہ بن سکے۔
پارٹی کی ایک اور رکن پارلیمنٹ، اینڈریا ڈیلوماسٹرو نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ ترغیب فرانس سے لی ہے۔ مذہبی آزادی ضروری ہے لیکن اطالوی ریاست کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا جا سکتا۔
بل پیش کرنے والی سارا کیلونی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مذہبی آزادی عوامی مقامات کے لیے نہیں ہے۔ آپ عوامی مقامات پر اٹلی کے قانون کو مانیے۔
برقع کے ساتھ ساتھ،کنوارہ پن کی جانچ کا معاملہ بھی خبروں میں ہے۔ اٹلی میں قدامت پسند طبقے میں ڑکیوں میں شادی سے پہلے اس ٹیسٹ کا چلن ہے، حالانکہ عالمی ادارۂ صحت اسے ایک جرم مانتا ہے۔ اسی وجہ سے جارجیا میلونی کی حکومت نے کنوارہ پن کے ٹیسٹ کو بھی ممنوع قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔











