مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی عالمی مانگ میں غیر معمولی اضافے نے جنوبی کوریا کی برآمدات کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں جنوبی کوریا کی مجموعی برآمدات 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ صنعت کے مطابق گزشتہ سال برآمدات میں 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی سب سے بڑی وجہ سیمی کنڈکٹرز کی ریکارڈ فروخت رہی۔ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے باعث سیمی کنڈکٹرز کی برآمدات 173.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
وزارت کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی مہنگی میموری چپس کی عالمی سطح پر زبردست مانگ رہی، جبکہ دسمبر 2025 میں سیمی کنڈکٹر برآمدات میں سال بہ سال 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ مسلسل دسویں ماہ اضافے کا رجحان رہا۔
جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس دنیا کی بڑی میموری چِپ ساز کمپنیوں میں شامل ہے، جبکہ ایس کے ہائینکس بھی عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کا اہم کھلاڑی ہے۔
ادھر جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے رواں سال مصنوعی ذہانت پر حکومتی اخراجات تین گنا بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک کو امریکا اور چین کے بعد دنیا کی تین بڑی اے آئی طاقتوں میں شامل کرنا ہے۔
سیمی کنڈکٹرز کے علاوہ گاڑیوں کی برآمدات بھی نمایاں رہیں، جو امریکی ٹیرف دباؤ کے باوجود 72 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اسی طرح زرعی مصنوعات اور کاسمیٹکس کی برآمدات نے بھی تاریخی سطح کو چھوا، جس کی بڑی وجہ جنوبی کوریا کی پاپ کلچر، خوراک اور بیوٹی مصنوعات میں عالمی دلچسپی بتائی جا رہی ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین کو برآمدات میں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ اسٹیل، گاڑیوں اور مشینری پر عائد ٹیرف ہیں۔ امریکا کی جانب سے ابتدا میں 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ شرح 15 فیصد تک کم کر دی گئی۔
وزیرِ صنعت کم جنگ کوان نے کہا کہ یہ ریکارڈ ملکی و عالمی سطح پر مشکل حالات کے باوجود حاصل کیا گیا ہے اور یہ جنوبی کوریا کی معیشت کی مضبوطی اور ترقی کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ رواں سال برآمدی حالات بدستور چیلنجنگ رہیں گے، خاص طور پر سیمی کنڈکٹرز کی مستقبل کی مانگ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔











