سوئٹزرلینڈ میں ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک معروف اسکی ریزورٹ کی پرہجوم بار میں سالِ نو کی تقریب کے دوران آگ لگنے سے کم از کم 40 افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ کرانز مونٹانا نامی اسکی ریزورٹ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا، جب بار میں سالِ نو کی پارٹی جاری تھی۔ مقامی پولیس کے مطابق آگ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات، تقریباً ڈیڑھ بجے لگی اور بہت تیزی سے پھیل گئی۔
اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی طور پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ کسی حملے کا نتیجہ نہیں۔
جنوب مغربی سوئٹزرلینڈ کے علاقے والس کے پولیس کمانڈر فریڈرک گیزلر نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے اور مجموعی طور پر یہ تعداد کئی درجن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے بہت سے شدید نوعیت کے زخموں کا شکار ہیں۔
واقعے کے بعد والس کے مرکزی ہسپتال کا ایمرجنسی یونٹ زخمیوں سے بھر گیا، جس کے بعد متعدد زخمیوں کو سوئٹزرلینڈ کے دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
سوئٹزرلینڈ کے صدر گائی پارمیلن نے اس سانحے کو ’’خوفناک المیہ‘‘ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سالِ نو کا خوشی بھرا موقع ایک دلخراش سانحے میں بدل گیا، جس نے نہ صرف سوئٹزرلینڈ بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اسی اسکی ریزورٹ میں 30 جنوری سے اسکیئنگ ورلڈ کپ کے مقابلوں کا آغاز ہونا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد ریسکیو اور شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی بتائی جا سکے گی۔











