ناروے کے شاہی خاندان کی ساکھ کو شدید دھچکا لگانے والے اسکینڈل میں ولی عہد شہزادی میٹے مارِٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئیبی کے خلاف منگل سے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ 29 سالہ ماریئس پر چار خواتین سے جنسی زیادتی، سابقہ گرل فرینڈز پر تشدد، منشیات کے جرائم اور دھمکیوں سمیت 38 الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں بعض کیسز 2018 سے تعلق رکھتے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق ناروے کی پولیس نے حملہ، چاقو سے دھمکیاں دینا اور حفاظتی حکم کی خلاف ورزی پر ولی عہد شہزادی میٹے مارِٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئیبی کو حراست میں لے لیا ۔ عدالت نے دوبارہ جرم کے خدشے کے پیش نظر انہیں چار ہفتوں کے لیے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ مجرم ثابت ہونے کی صورت میں ماریئس کو 16 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
استغاثہ کے مطابق ماریئس پر الزام ہے کہ انہوں نے چار خواتین کو نشے یا بے ہوشی کی حالت میں زیادتی کا نشانہ بنایا، جن میں سے بعض واقعات کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ انہوں نے معمولی الزامات تسلیم کیے ہیں تاہم سنگین جرائم کی تردید کی ہے۔
مقدمے کی سماعت 19 مارچ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ ناروے کے پراسیکیوٹر نے واضح کیا ہے کہ ماریئس کے ساتھ ان کے شاہی پس منظر کی بنیاد پر نرمی یا سختی نہیں برتی جائے گی۔
یہ اسکینڈل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ولی عہدہ شہزادی میٹے مارِٹ خود بھی دباؤ کا شکار ہیں، ایک جانب وہ لاعلاج پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہیں جبکہ دوسری جانب ان کا نام حال ہی میں سامنے آنے والی جیفری ایپسٹین فائلز میں بھی زیر بحث آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ ناروے کی بادشاہت کی تاریخ کے بدترین تنازعات میں سے ایک ہے، تاہم شاہی خاندان اب بھی عوامی سطح پر خاصی حمایت رکھتا ہے۔









