ٹی 20 کرکٹ کو جارحانہ کہا جاتا ہے۔ اس میں وہیں کھلاڑی کامیاب قرار پاتے ہیں جو بے خوفی سے مخالف ٹیموں پر قہر ڈھاتے ہیں۔
بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جہاں دنیائے کرکٹ کے بڑے ستارے ایکشن میں ہوں گے، وہیں نوجوان اور نڈر کھلاڑیوں کے لیے بھی عالمی سطح پر خود کو منوانے کا سنہری موقع ہوگا۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والے 20 ٹیموں کے اس میگا ایونٹ میں کئی ابھرتے ہوئے کھلاڑی اپنی کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
کوپر کونولی

آسٹریلیا کے کوپر کونولی ایک بیٹنگ آل راؤنڈر ہیں جو بائیں ہاتھ کی اسپن بولنگ بھی کرتے ہیں۔ 22 سالہ کونولی 2024 میں بین الاقوامی کرکٹ میں متعارف ہوئے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میں پانچ وکٹیں لے کر کم عمر ترین آسٹریلوی بولر بنے۔ حال ہی میں انہیں بریڈمین ینگ کرکٹر آف دی ایئر بھی قرار دیا گیا۔
جیکب بیتھل

انگلینڈ کے جیکب بیتھل اپنی جارحانہ بیٹنگ، کارآمد اسپن بولنگ اور شاندار فیلڈنگ کے باعث خاصی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ 22 سالہ بیتھل انگلینڈ کے کم عمر ترین ٹی ٹوئنٹی کپتان بھی رہ چکے ہیں اور حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سنچری اسکور کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
کوینا مافاکا

جنوبی افریقا کے 19 سالہ فاسٹ بولر کوینا مافاکا کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا نیا ایکس فیکٹر قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ اپنی رفتار اور مہارت کی بدولت رابڈا اور نورٹجے جیسے سینئر بولرز کے ساتھ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تلک ورما

بھارت کے تلک ورما ایک نڈر بائیں ہاتھ کے بیٹر ہیں جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں شاندار اوسط کے ساتھ خود کو مستحکم کر لیا ہے۔ 23 سالہ ورما دو سنچریاں اسکور کر چکے ہیں اور ٹیم انڈیا کے مڈل آرڈر کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
نور احمد

افغانستان کے نور احمد بائیں ہاتھ کے کلائی اسپنر ہیں جو راشد خان کی قیادت میں دنیا بھر کی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیل چکے ہیں۔ آئی پی ایل میں ان کی کامیاب کارکردگی انہیں ورلڈ کپ میں ایک خطرناک بولر بنا سکتی ہے۔











