اہم ترین

سوشل میڈیا پر بچوں کو ذہنی مریض بنانے کا الزام : امریکا میں تاریخی مقدمے کی سماعت

امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک تاریخی مقدمے کی سماعت کا آغاز ہورہا ہے، جس میں یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ آیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جان بوجھ کر بچوں کو نشے کا عادی بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے یا نہیں۔

اے ایف پی کے مطابق لاس اینجلس سپیریئر کورٹ میں جاری اس مقدمے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا فیصلہ امریکا بھر میں دائر کیے گئے درجنوں ایسے ہی مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مقدمے میں فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اور یوٹیوب کی مالک کمپنی الفابیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ میٹا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کے علاوہ انسٹاگرام اور یوٹیوب کے اعلیٰ حکام کے بھی گواہ کے طور پر پیش ہونے کی توقع ہے۔

مدعیان کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ایسے بزنس ماڈلز استعمال کرتی ہیں جو کم عمر صارفین کو زیادہ سے زیادہ اسکرین سے جوڑے رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچوں اور نوجوانوں میں ڈپریشن، کھانے کی خرابی، ذہنی امراض، اسپتال میں داخلے اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔

یہ مقدمہ ایک 20 سالہ خاتون سے متعلق ہے، جس کا مؤقف ہے کہ وہ بچپن میں سوشل میڈیا کی عادی ہو گئی تھیں، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی نقصان پہنچا۔

مدعیان کے وکلا اس کیس میں وہی حکمتِ عملی استعمال کر رہے ہیں جو ماضی میں تمباکو کمپنیوں کے خلاف اپنائی گئی تھی، جب ان پر نقصان دہ مصنوعات فروخت کرنے کے الزامات لگے تھے۔ دفاعی وکلا نے سوشل میڈیا کو تمباکو سے تشبیہ دینے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

یوٹیوب کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کے لیے محفوظ اور صحت مند تجربہ فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ میٹا نے بھی تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اس مقدمے میں اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کو بھی نامزد کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے سماعت سے قبل خفیہ معاہدوں کے تحت تصفیہ کر لیا۔

ماہرین کے مطابق اگر اس مقدمے میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف فیصلہ آیا تو یہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ایک بڑا قانونی اور اخلاقی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان