اہم ترین

نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرکے51 نمازیوں کے قاتل کی سزا کے خلاف اپیل

نیوزی لینڈ میں 2019 میں 2 مساجد میں 51 نمازیوں کو قتل کرنے والے سفید فام نسل پرست برینٹن ٹیرنٹ نے اپنی سزا اور جرم کے اعتراف کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

آسٹریلوی شہری اور سابق جم انسٹرکٹر برینٹن ٹیرنٹ کو اگست 2020 میں عمر قید بغیر پیرول کی سزا سنائی گئی تھی، جو نیوزی لینڈ کی تاریخ کی سخت ترین سزا ہے۔ اس نے خود اعتراف کیا تھا کہ اس نے کرائسٹ چرچ کی النور اور لن ووڈ مساجد میں فائرنگ کی۔

اب ٹیرنٹ کا مؤقف ہے کہ مقدمے کے دوران اسے غیر انسانی اور اذیت ناک حالات میں رکھا گیا، جس کے باعث وہ ذہنی طور پر اس قابل نہیں تھا کہ جرم قبول کرنے جیسے اہم فیصلے کر سکے۔

عدالت کے تین ججوں پر مشتمل بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے، جبکہ فیصلہ بعد میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ٹیرنٹ اس وقت آکلینڈ جیل کے انتہائی خطرناک قیدیوں کے خصوصی یونٹ میں قید ہے، جہاں اس کا دوسرے قیدیوں یا افراد سے بہت کم رابطہ ہوتا ہے۔

اپیل کی سماعت کے دوران ٹیرنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوا۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کی ذہنی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد بیانات دینے پر بھی غور کر رہا تھا۔

اگر ویلنگٹن کی کورٹ آف اپیل نے سزا برقرار رکھی تو سزا کے خلاف اپیل پر بھی غور کیا جائے گا، جبکہ سزا کالعدم ہونے کی صورت میں کیس دوبارہ ہائی کورٹ میں سنا جا سکتا ہے۔

پیر کی سماعت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو کرائسٹ چرچ میں ویڈیو کے ذریعے کارروائی دیکھنے کی اجازت دی گئی، جبکہ عوام کے لیے بھی محدود رسائی رکھی گئی۔

حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین نے اس اپیل پر شدید صدمے اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ وہ سمجھ چکی تھیں کہ سزا کے بعد یہ باب بند ہو چکا ہے، مگر برسوں بعد دوبارہ یہ زخم تازہ ہو گیا۔

یاد رہے کہ حملے کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے فوری طور پر اسلحہ قوانین سخت کیے تھے اور سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد کے خلاف عالمی دباؤ بھی بڑھایا تھا۔

پاکستان