اہم ترین

بچوں کو جان بوجھ کرعادی بنایا گیا، امریکا میں میٹا اور یوٹیوب پر مقدمے کی سماعت

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق ایک تاریخی مقدمے کی سماعت باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی ہے، جہاں میٹا اور گوگل کی ملکیت یوٹیوب پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسے ڈیجیٹل نظام تیار کیے جو بچوں کے دماغ کو لت میں مبتلا کرتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق مقدمے کی سماعت جج کیرولین کول کی نگرانی میں جاری ہے۔ اس مقدمے میں ایک 20 سالہ خاتون، جن کی شناخت کیلی جی ایم کے نام سے کی گئی ہے، نے الزام لگایا ہے کہ وہ بچپن میں سوشل میڈیا کی شدید عادی ہو گئیں، جس کے نتیجے میں انہیں سنگین ذہنی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

اس مقدمے میں اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کو بھی فریق بنایا گیا تھا، تاہم انہوں نے سماعت سے قبل ہی مصالحتی معاہدے کر لیے، جن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

مدعی کے وکیل مارک لینیئر نے عدالت میں ابتدائی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس دنیا کی دو امیر ترین کمپنیوں کے خلاف ہے جنہوں نے بچوں کے ذہنوں میں نشے جیسی عادت پیدا کرنے والی مشینیں تیار کیں۔ یہ سب کچھ اتفاقاً نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، کیونکہ لت منافع بخش ہوتی ہے۔

وکیل کے مطابق گوگل اور میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز، یعنی یوٹیوب اور انسٹاگرام، اس انداز میں ڈیزائن کیے کہ صارفین بار بار واپس آنے پر مجبور ہوں۔ انسٹاگرام ایک نہ ختم ہونے والا فیڈ ہے جہاں صارفین دوسروں کی فلٹر شدہ زندگیوں کو دیکھتے ہوئے سماجی قبولیت کے انتظار میں وقت گزارتے ہیں۔

اسی طرح یوٹیوب پر اگلی ویڈیو خودکار طور پر چل جاتی ہے، جس سے صارف کو رکنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ وکیل نے کہا کہ یوٹیوب کا الگورتھم یہ سیکھتا ہے کہ صارف کو کیا دیکھنے پر مجبور رکھنا ہے، اور پھر وہی مواد بار بار پیش کرتا ہے، چاہے صارف نے اسے تلاش کیا ہو یا نہیں۔

مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ آئندہ دنوں میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں، جبکہ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری کی بھی جلد پیشی متوقع ہے۔ یوٹیوب کے سربراہ نیل موہن کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ کیس اس لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے فیصلے سے امریکا بھر میں اسی نوعیت کے سیکڑوں مقدمات کی سمت کا تعین ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سوشل میڈیا کمپنی کو بچوں کو نقصان پہنچانے کے الزام میں جیوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سوشل میڈیا کمپنیوں پر پہلے ہی متعدد مقدمات دائر ہیں، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے پلیٹ فارمز نوجوانوں میں ڈپریشن، کھانے کی خرابیوں اور شدید ذہنی مسائل کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ مدعی وکلا نے اس مقدمے میں وہی قانونی حکمت عملی اپنائی ہے جو ماضی میں تمباکو کمپنیوں کے خلاف استعمال کی گئی تھی۔

دوسری جانب یوٹیوب کے ترجمان خوسے کستانیڈا نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان صارفین کو محفوظ اور صحت مند تجربہ فراہم کرنا ہمیشہ ان کی ترجیح رہی ہے۔ میٹا نے بھی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور عدالت میں بھرپور دفاع کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان