اہم ترین

غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت: مزید 10 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کم از کم 601 فلسطینی شہید اور 1,607 زخمی ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 10 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 72 ہزار 61 فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ 71 ہزار 715 زخمی ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج نے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران کم از کم 18 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ خبر رساں ادارے وفا کے مطابق نابلس کے مشرق میں واقع قصبوں عصیرہ الشمالیہ اور بیت فوریک سے 12 افراد کو گھروں کی تلاشی کے بعد حراست میں لیا گیا، جبکہ فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس کے مطابق نابلس گورنریٹ سے مجموعی طور پر 13، بیت لحم سے 2 اور سلفیت سے 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے دوران املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور شہریوں پر تشدد بھی کیا گیا۔

ادھر وسطی غزہ کے الاقصیٰ اسپتال میں آئی سی یو کے مریضوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔ اسپتال کے دونوں مرکزی جنریٹرز ناکارہ ہوچکے ہیں، جس کے باعث طبی سہولیات شدید متاثر ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 1700 سے زائد طبی کارکنان، جن میں ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرا میڈکس شامل ہیں، ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل پر صحت کے مراکز کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے فرانس اور جرمنی کی جانب سے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں فرانسسکا البانیزے سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مغربی ممالک پر سیاسی منافقت اور دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ یہ مہم انصاف کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔

پاکستان