اہم ترین

مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کے دوران اے آئی کی یلغار

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا ایک نیا اور خطرناک رجحان سامنے آگیا ہے۔ اب صرف جعلی تصاویر ہی نہیں بلکہ اصل تصاویر کو بھی اے آئی کی مدد سے اس طرح “بہتر” بنایا جا رہا ہے کہ حقیقت کا تاثر بدل جائے۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور فوجی رہنما ہلاک ہوگئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی علاقوں میں حملے کیے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار ہوگئی۔

ایسی ہی ایک تصویر میں ایک امریکی پائلٹ کو دکھایا گیا جو اپنا طیارہ گرنے کے بعد پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اترتا ہے اور ایک کویتی شہری اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور بعض میڈیا اداروں نے بھی اسے شائع کیا۔

تاہم تصویر کا بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ پائلٹ کے ہاتھ میں پانچ کے بجائے صرف چار انگلیاں نظر آرہی ہیں، جس سے شبہ پیدا ہوا کہ تصویر میں مصنوعی ذہانت استعمال کی گئی ہے۔

اے ایف پی کے فیکٹ چیکرز نے جب تصویر کو اے آئی شناختی ٹولز سے جانچا تو اس میں سنتھ آئی ڈی نامی ایک پوشیدہ واٹرمارک ملا، جو گوگل کے اے آئی سسٹم سے تیار یا تبدیل کی گئی تصاویر میں شامل ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ خود حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ اسی منظر کی ایک ویڈیو 2 مارچ کو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی اور سیٹلائٹ تصاویر سے بھی مقام کی تصدیق ہوئی۔ اس روز ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ کویت نے غلطی سے تین امریکی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس تصویر کا ایک پرانا ورژن ٹیلی گرام پر موجود تھا جو بالکل وہی منظر دکھاتا ہے مگر دھندلا اور کم معیار کا تھا۔ ماہرین کے مطابق غالب امکان ہے کہ اسی اصل تصویر کو اے آئی کے ذریعے بہتر اور واضح بنایا گیا۔

ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کے اے آئی ماہر ایوانجیلس کینولاس کے مطابق اے آئی کے ذریعے تصویر کو بہتر بنانے کے عمل میں چہروں، روشنی، رنگوں اور پس منظر کی تفصیلات میں معمولی تبدیلیاں آجاتی ہیں، جس سے تصویر حقیقت سے زیادہ ڈرامائی یا متاثر کن دکھائی دینے لگتی ہے۔

ان کے بقول اس طرح کی تبدیلیاں کسی واقعے کے بارے میں ایک مخصوص تاثر پیدا کر سکتی ہیں، مثلاً احتجاج کو زیادہ پرتشدد دکھانا، ہجوم کو بڑا ظاہر کرنا یا لوگوں کے تاثرات کو زیادہ شدید بنا دینا۔

اسی طرح عراق کے شہر اربیل کے ایئرپورٹ کے قریب ایرانی حملے کے بعد ایک بڑی آگ کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اصل تصویر میں آگ اور دھوئیں کا حجم کہیں کم تھا، مگر اے آئی کے ذریعے اسے زیادہ خوفناک بنا دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر جیمز اوبرائن کے مطابق چھوٹی سی تبدیلی بھی کسی واقعے کی کہانی کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں مختلف تاثر پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی سے بہتر بنائی گئی تصاویر کو واضح طور پر لیبل نہ کیا جائے تو اس سے عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ رہی ہے کہ لوگ اصل اور مستند تصاویر پر بھی شک کرنے لگتے ہیں، جو اطلاعاتی جنگ کے اس دور میں ایک بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان