اہم ترین

ایران سے جنگ کی امریکی تفصیلات کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع کی میڈیا بریفنگز پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ بیانات میں سخت لہجہ تو موجود ہے مگر عملی تفصیلات بہت کم فراہم کی جا رہی ہیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ماضی کی جنگوں کے برعکس اس مرتبہ امریکی فوج کی جانب سے میڈیا کو محدود معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران صحافیوں کو روزانہ کی بنیاد پر بریفنگز اور محاذ پر موجود فوجیوں کے ساتھ رہ کر رپورٹنگ کی سہولت دی جاتی تھی، تاہم ایران کے ساتھ جاری تنازع میں صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اسٹیو وارن کا کہنا ہے کہ اس وقت پینٹاگون کی جانب سے پہلے کے مقابلے میں کم اور کم معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، اور جو معلومات دی جا رہی ہیں وہ بھی زیادہ تفصیلی نہیں ہوتیں۔

ادھر پینٹاگون کی ترجمان کنگسلے ولسن نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے میڈیا کو بھرپور معلومات فراہم کی گئی ہیں، جن میں پریس بریفنگز، سوشل میڈیا اپڈیٹس اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کی ویڈیو اپڈیٹس شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ کے دوران صرف چند اعلیٰ حکام نے میڈیا بریفنگ دی ہے جن میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ، اعلیٰ فوجی افسر ڈین کین اور سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر شامل ہیں۔

ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے میڈیا تک رسائی محدود کیے جانے سے شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔ روجر اسٹیلھ کے مطابق پینٹاگون کے قریب موجود صحافیوں کی تعداد کم ہونے سے اہم معلومات منظر عام پر آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نہ تو کانگریس اور نہ ہی عوام کے سامنے جنگ کی واضح وضاحت پیش کی ہے، جس کے باعث پالیسی کو مکمل طور پر غیر شفاف قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان