وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 11 اپریل کو ایوان اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا، جس میں دونوں فریقین کے درمیان 21 گھنٹے طویل نشست ہوئی۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ان مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کوششوں کے باعث جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی قابلِ ستائش قرار دیا۔
اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے دوران اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ وزیراعظم کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے عمان اور روس کے دورے بھی کیے اور اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد آئندہ لائحہ عمل دینے کا عندیہ دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستان کا ہفتہ وار تیل کا درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے ہیں اور معاشی استحکام کے لیے سعودی عرب کی قیادت کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ریلیف کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے صوبوں سے مشاورت جاری ہے، جبکہ پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشکل حالات کے باوجود قوم کو محنت، ہمت اور یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔


