بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ اور فلم ساز فرحان اختر کے درمیان فلم ڈان 3 کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رنویر سنگھ نے فلم سے علیحدگی کے بعد فرحان اختر اور ان کے پروڈکشن پارٹنر رتیش سدھوانی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مستقبل میں کسی نئے منصوبے پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق رنویر نے تجویز دی تھی کہ دونوں فریق مل کر کسی نئے فلمی منصوبے کا انتخاب کریں، مگر یہ پیشکش فوری طور پر مسترد کر دی گئی۔ فرحان اختر اور ان کی بہن زویا اختر فی الحال رنویر سنگھ کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔
ڈان 3 کا اعلان 2023 میں رنویر سنگھ کو مرکزی کردار میں لے کر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے اچانک یہ پروجیکٹ چھوڑ دیا۔ فلم سازوں کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے کے باعث انہیں تقریباً 45 کروڑ روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ابتدا میں معاملہ پروڈیوسرز گلڈ کے پاس لے جایا گیا، جس کے بعد یہ کیس فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی آئی) تک پہنچا۔
فیڈریشن نے رنویر سنگھ کو متعدد نوٹس جاری کیے، لیکن اداکار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانونی معاملہ ہے جس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے فیڈریشن کے ذریعےنہیں۔
بعد ازاں ایف ڈبلیو آئی سی آئینے ممبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رنویر سنگھ کے خلاف پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے بعد تنازع حل ہونے تک ان کے لیے نئی فلموں کی شوٹنگ شروع کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
رنویر سنگھ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اداکار فلم انڈسٹری اور ڈان فرنچائز سے وابستہ تمام افراد کا احترام کرتے ہیں۔
ان کے مطابق رنویر نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا کیونکہ وہ پیشہ ورانہ معاملات کو وقار، باہمی احترام اور سمجھداری کے ساتھ حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مختلف افواہوں اور قیاس آرائیوں کے باوجود رنویر سنگھ نے کبھی عوامی سطح پر وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھا اور ان کی توجہ صرف اپنے موجودہ اور آئندہ منصوبوں پر مرکوز ہے۔
ایف ڈبلیو آئی سی آئی بھارتی فلم اور ٹی وی صنعت کے کارکنوں، فنکاروں اور تکنیکی عملے کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ 1956 میں قائم ہونے والی اس فیڈریشن کے تحت 34 مختلف ایسوسی ایشنز کام کرتی ہیں اور اس سے تقریباً 4 سے 5 لاکھ افراد وابستہ ہیں۔
فلم انڈسٹری کے تقریباً 90 فیصد تکنیکی ماہرین، جونیئر آرٹسٹ، کیمرہ مین، اسپاٹ بوائز اور دیگر کارکن اسی فیڈریشن سے منسلک ہیں، جس کی وجہ سے اس کے فیصلے صنعت پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
فیڈریشن کی پابندی کے باعث رنویر سنگھ کے کئی آئندہ منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کی متوقع فلموں میں کنگ میں خصوصی کردار، ہدایت کار آدتیہ دھر کا نیا پروجیکٹ، کیارا اڈوانی کے ساتھ ایک فلم اور بیجو باورا شامل ہیں۔
ایف ڈبلیو آئی سی آئی سے وابستہ کارکن رنویر کے منصوبوں پر کام کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کئی فلموں کی شوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نئے پروڈیوسرز کو بھی رنویر کے ساتھ کام شروع کرنے سے قبل فیڈریشن سے این او سی حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پابندی اور قانونی تنازع سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ معاملے کے حتمی نتائج کا انحصار آئندہ قانونی اور انتظامی کارروائیوں پر ہوگا۔











