آسٹریلیا نےدوسرے ون ڈے میں پاکستان کو ہراکر 3 میچز کی سیریز ایک ایک سے برابر کردی ہے۔
پاکستان اورآسٹریلیا کے درمیان کھیلی جارہی ون ڈے سیریز کا دوسرا میچ لاہور کے قذافی کرکٹ اسٹیڈئیم میں کھیلا گیا۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو بالکل درست ثات ہوا۔ آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں صرف 231 رنز ہی بناسکی۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن میں سب سے نمایاں کارکردگی جوش انگلس اور کیمرون گرین نے دکھائی، جنہوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں، کیمرون گرین نے 53، جوش انگلس نے 51 رنز بنائے۔
کیمرون گرین نے مشکل وکٹ پر انتہائی محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی اننگز کو سنبھالا، جبکہ میٹ رینشا بھی اچھی فارم میں نظر آئے اور ٹیم کے مجموعے میں اہم رنز کا اضافہ کیا، میٹ رنشا نے 43 اور اولیور پیکے نے 32 گیندوں پر 31 رنز بنائے، جس میں ایک چوکا اور دو چھکے شامل تھے۔ انہوں نے آخری اوور میں حارث رؤف کے خلاف ایک شاندار چھکا اور چوکا لگا کر اسکور کو 230 کے پار پہنچایا۔
پاکستان کی جانب سے بولنگ میں عرفات منہاس ایک بار پھر متاثر کن ثابت ہوئے اور انہوں نے 27 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے بھی نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے سے روکے رکھا۔
آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لئے 232 رنز کا ہدف دیا جو ابتدا میں تو بہت آسان نظر آرہا تھا لیکن بیٹرز کی غلطیوں نے اسے ناممکن بنادیا۔
پاکستانی اوپنرز صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے اننگز کا آغاز کیا، لیکن اننگز کے پہلے ہی اوور میں آسٹریلیا کو بڑی کامیابی مل گئی، معاذ صداقت بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے، ان کے بعد بابر اعظم کریز پر آئے، دوسرے اوور میں صاحبزادہ فرحان بھی صرف 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
ابتدائی دو وکٹیں گرنے کے بعد بابر اعظم اور غازی غوری نے محتاط انداز میں اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ غازی غوری نے میدان کے چاروں طرف دلکش اسٹروکس کھیلے جبکہ بابر اعظم نے بھی چند خوبصورت شاٹس کے ذریعے اسکور آگے بڑھایا۔
بابر اعظم نے 16 رنز کی مختصر اننگز کھیلی جس میں دو چوکے شامل تھے، تاہم نیتھن ایلس کی ایک اندر آتی ہوئی گیند ان کے لیے مشکلات کا باعث بن گئی۔ آسٹریلیا کی زوردار اپیل پر امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا، جس کے بعد بابر نے ریویو لیا لیکن بال ٹریکنگ میں گیند وکٹوں سے ٹکراتی دکھائی گئی اور یوں پاکستان کو تیسرا بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان علی آغا کریز پر آئے، لیکن وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے، اور 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد عبدالصمد بھی 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
غازی غوری کی ہمت بھی 78 رنز پر ٹوٹ گئی۔ وہ ایڈم زمپا کا شکار بنے۔ انہوں نے 37 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے بعد شاداب خان نے عرفات منہاس کے ساتھ مل کر ٹیم کو سہارہ دینے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔











