نارمل وزن والے بھی موٹے: کمر اور کولہے کا تناسب فربہی کی بہتر پیمائش قرار

امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق نے موٹاپے کی تشخیص کے روایتی پیمانے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تحقیق کے مطابق بی ایم آئی لاکھوں افراد میں موٹاپے کی درست نشاندہی کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ ضروری طبی علاج اور احتیاطی تدابیر سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اینلز آف انٹرنل میڈیسن نامی سائسنی جریدے مٰں شائع تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہجن افراد کو بی ایم آئی کے مطابق نارمل وزن کا حامل قرار دیا جاتا ہے، ان میں سے تقریباً 26 فیصد درحقیقت موٹاپے کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ اسی طرح اوور ویٹ (زائد وزن والے)قرار دیے جانے والے 50 فیصد افراد کو بھی موٹاپے کے زمرے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق بی ایم آئی صرف وزن اور قد کی بنیاد پر حساب لگاتا ہے اور جسم میں موجود چربی، پٹھوں اور ہڈیوں میں فرق نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک صحت مند اور مضبوط کھلاڑی کو بھی موٹاپے کا شکار قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ جسم میں زائد چربی رکھنے والا شخص نارمل بی ایم آئی کے باوجود خطرناک بیماریوں کے خطرے میں ہوتا ہے۔

تحقیق میں کمر اور کولہے کے تناسب کو موٹاپے اور صحت کے خطرات جانچنے کا زیادہ مؤثر پیمانہ قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی دل کے امراض، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور بعض اقسام کے کینسر سمیت کئی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ موٹاپا ایک پیچیدہ اور دائمی طبی مسئلہ ہے، جس کی بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق بہتر غذا، باقاعدہ ورزش، معیاری نیند اور ضرورت پڑنے پر ادویات یا سرجری کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔