مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ فی الحال رک گیا ہے، تاہم دونوں جانب سے سخت انتباہات بھی سامنے آئے ہیں۔
ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں روک دی ہیں، لیکن خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں جاری فوجی آپریشنز کا دائرہ مزید وسیع کیا تو ایران دوبارہ حملے شروع کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں۔
اس سے قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر برسائی تھی، جن میں اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایک دوسرے پر فائرنگ اور حملے بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ “امن کی کوششیں” جاری رہیں گی اور خطے میں مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔
ادھر خطے میں ایک اور محاذ پر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیلی جہازوں کے لیے بحیرہ احمر میں “مکمل اور جامع پابندی” کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل سے منسلک بحری سرگرمیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر پہلے ہی عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے ایک حساس گزرگاہ بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران اور اسرائیل کے درمیان وقتی طور پر حملے رک گئے ہیں، لیکن لبنان، غزہ اور بحیرہ احمر میں جاری تنازعات کے باعث خطے میں کشیدگی کے مکمل خاتمے کے امکانات ابھی واضح نہیں ہیں۔



