چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے عوامی سطح پر حصص فروخت کرنے (آئی پی او) کی جانب پہلا باضابطہ قدم اٹھا لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے اس کی بڑی حریف اینتھروپک نے بھی امریکی ریگولیٹرز کے پاس خفیہ رجسٹریشن دستاویزات جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔
کمپنی کے سربراہ سیم آلٹ مین کی قیادت میں اوپن اے آئی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس نے امریکی سیکیورٹیز ریگولیٹرز کے پاس خفیہ طور پر ایس-1 رجسٹریشن اسٹیٹمنٹ جمع کرا دی ہے، تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کمپنی کب اسٹاک مارکیٹ میں اپنے حصص کی فروخت شروع کرے گی۔
اوپن اے آئی کے مطابق بعض ایسے منصوبے موجود ہیں جنہیں نجی کمپنی کی حیثیت سے آگے بڑھانا نسبتاً آسان ہے، اس لیے فوری طور پر آئی پی او لانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ فائلنگ کمپنی کو ضرورت پڑنے پر جلد عوامی لسٹنگ کا اختیار فراہم کرے گی۔
سیم آّلٹم مین اور ایلون مسک سمیت دیگر شراکت داروں کی جانب سے 2015 میں سان فرانسسکو میں ایک غیر منافع بخش تحقیقی ادارے کے طور پر قائم ہونے والی اوپن اے آئی نے نومبر 2022 میں چیٹ جی پی ٹی متعارف کرا کے عالمی سطح پر غیرمعمولی شہرت حاصل کی۔ بعد ازاں کمپنی نے اپنے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے منافع بخش کارپوریشن کی شکل اختیار کر لی۔
مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی تربیت اور آپریشن کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور جدید چپس درکار ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں کمپنیاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اینتھروپک، جو کلاڈ چیٹ بوٹ تیار کرتی ہے، حالیہ فنڈ ریزنگ کے بعد تقریباً 965 ارب ڈالر کی مالیت رکھتی ہے، جبکہ مارچ میں اوپن اے آئی کی مالیت 852 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔ دونوں کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
ادھر اسپیس ایکس بھی جلد وال اسٹریٹ میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی کا ممکنہ آئی پی او تقریباً 1.75 کھرب ڈالر مالیت کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا عوامی شیئر اجرا ثابت ہو سکتا ہے۔
اوپن اے آئی نے کہا کہ اس نے ممکنہ افشا ہونے والی معلومات سے قبل خود ہی اس پیش رفت کا اعلان کیا ہے تاکہ قیاس آرائیوں کی بجائے درست معلومات سامنے آ سکیں۔


