مشرقِ وسطیٰ پھر سے جنگ کے دہانے پر: ٹرمپ کی ایران کو قیمت چکانے کی دھمکی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی نے پورے خطے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوج کو مکمل طور پر تباہ حال قرار دیتے ہوئے تہران کو سخت پیغام دیا ہے کہ اس نے مذاکرات میں بہت دیر کر دی ہے اور اب اسے قیمت چکانا ہوگی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی کارروائیوں کے جواب میں اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اب خطے میں نہ جنگ، نہ امن کی کیفیت سے آگے بڑھنا چاہتا ہے اور موجودہ صورتحال کا مستقل حل ضروری ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران لبنان بھی ایک بار پھر اسرائیلی حملوں کی زد میں آ گیا ہے۔ لبنانی سول ڈیفنس حکام کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے طیر دبہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ادھر ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے امریکی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی حمایت یافتہ قراردادیں کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے بھی خطے کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام اور لبنان میں اسرائیلی حملے اب اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان سے ترکیہ کی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایردوان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

امریکی اور ایرانی کارروائیوں کے اس تازہ سلسلے نے نہ صرف سفارتی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔