سفارت کاری یا جنگ؟ایران کا مذاکرات کے مستقبل پر نظرثانی کا اشارہ

ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی خلاف ورزیوں اور حالیہ امریکی کارروائیوں کے بعد سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران موجودہ حالات میں سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری اور میدانِ جنگ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں کا تعلق براہِ راست ایران کے قومی مفادات اور سلامتی سے ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایرانی ریاست کے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں سفارت کاری مؤثر ثابت ہو سکتی ہے وہاں مذاکرات کو ترجیح دی جائے گی، تاہم ملک کے دفاع کے لیے ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران میں محدود فوجی کارروائی کی گئی، جسے واشنگٹن نے “ایرانی جارحیت کا جواب” قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی افواج نے علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں مواصلاتی تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان اہداف میں مبینہ طور پر جنگی طیاروں کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں قائم ایک امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز شامل تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر خطے میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ایک جانب مذاکرات کی راہیں کھلی رکھنے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب تہران واضح کر رہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر عسکری ردعمل بھی اس کی حکمت عملی کا حصہ رہے گا۔