آبنائے ہرمز کی بندش سے بھارت میں مہنگائی کا طوفان، معاشی ایمرجنسی کا خدشہ

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بھارتی تجارتی و صنعتی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی ) نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اہم بحری راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو بھارت کو توانائی، تجارت، صنعت اور مہنگائی کے محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم توانائی راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو بھارت سمیت بڑے درآمد کنندگان کو خام تیل کی قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، جن میں سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ سپلائی زیادہ تر آبنائے ہرمز کے ذریعے بھارت پہنچتی ہے۔

سی ٹی آئی کے مطابق اگر بحران طول پکڑتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت 140 سے 150 بھارتی روپے (480 پاکستانی روپے)فی لیٹر تک جا سکتی ہے۔

بھارتی تجارتی تنظیم کا کہنا ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کے اخراجات بڑھ جائیں گے، جس کا اثر براہ راست روزمرہ استعمال کی اشیا پر پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں حالیہ مہنگائی کی شرح تقریباً 3.4 فیصد رہی، تاہم اگر ہرمز کا بحران برقرار رہا تو یہ شرح 5 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔

سی ٹی آئی کے مطابق فضائی ایندھن مہنگا ہونے سے ہوائی ٹکٹوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پینٹ، ٹائر، پلاسٹک اور آٹو موبائل صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ایل این جی مہنگی ہونے سے کھاد کی تیاری متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں زرعی شعبے کے اخراجات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے تو سامان کی ترسیل میں تاخیر اور شپنگ لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں بھارتی درآمدات اور برآمدات دونوں متاثر ہوں گی جبکہ کاروباری سرگرمیوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔