اہم ترین

ڈان3تنازع: بھارتی فنکاروں کی تنظیم کے سربراہ کا رنویرسےمتعلق بڑادعویٰ

ممبئی: فلم ڈان 3 سے متعلق جاری تنازع میں فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت نے دعویٰ کیا ہے کہ رنویر سنگھ کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کرنے سے قبل انہوں نے اداکار اور ہدایت کار فرحان اختر کے درمیان ہونے والی نجی واٹس ایپ گفتگو کا جائزہ لیا تھا۔

ایک انٹرویو میں اشوک پنڈت نے کہا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد رنویر سنگھ، فرحان اختر اور پروڈیوسر رتیش سدھوانی کے درمیان ہونے والی گفتگو اور دیگر دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان کے مطابق فلم کی اسٹائلنگ، ملبوسات، سفری ٹکٹوں اور ہوٹلوں سمیت تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے اور یونٹ تین ہفتوں بعد شوٹنگ کے لیے روانہ ہونے والی تھی، تاہم عین وقت پر رنویر سنگھ نے فلم سے علیحدگی اختیار کر لی۔

اشوک پنڈت کے مطابق فرحان اختر اور رتیش سدھوانی نے تقریباً پانچ ماہ قبل فیڈریشن میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 300 کروڑ روپے کے بجٹ والی اس فلم کے پری پروڈکشن پر تقریباً 45 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میکرز اس اخراجات سے متعلق آڈٹ دستاویزات پیش کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

گزشتہ ماہ فیڈریشن نے رنویر سنگھ کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کی تھی، تاہم اداکار کی جانب سے قانونی نوٹس موصول ہونے کے بعد فیڈریشن کے صدر بی این تیواری نے دیگر فلمی تنظیموں کی درخواست پر یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ البتہ فیڈریشن کی قانونی ٹیم رنویر سنگھ کے نوٹس کا باضابطہ جواب دے گی۔

اشوک پنڈت نے واضح کیا کہ فیڈریشن کے پاس کسی فنکار پر پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں اور اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرحان اختر، رتیش سدھوانی اور رنویر سنگھ باہمی مشاورت کے ذریعے تنازع ختم کرنے اور فلم پر دوبارہ کام شروع کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

ڈان 3 کا اعلان تقریباً تین برس قبل کیا گیا تھا، تاہم گزشتہ برس دسمبر میں رنویر سنگھ نے اسکرپٹ سے متعلق اختلافات کی وجہ سے فلم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس کے بعد نقصان کے ازالے اور مالی مطالبات پر تنازع سامنے آیا۔

پاکستان