گھٹنے کے درد اور اوسٹیو آرتھرائٹس (جوڑوں کے گھساؤ) کے شکار افراد کے لیے کی جانے والی ایک عام سرجری کے حوالے سے نئی تحقیق نے چونکا دینے والے نتائج سامنے لائے ہیں۔
فن لینڈ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق گھٹنے کے مینیسکس کے متاثرہ حصے کو نکالنے والی سرجری نہ صرف محدود فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ طویل مدت میں مریضوں کی حالت مزید خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھا سکتی ہے۔
طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایسے مریض، جن کے گھٹنے کے کارٹلیج کا متاثرہ حصہ نکالا گیا، آئندہ دس برسوں میں ان افراد کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا شکار رہے جن پر بظاہر سرجری کی گئی لیکن کارٹلیج کو نہیں چھیڑا گیا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نام نہاد شیم سرجری کروانے والے افراد میں گھٹنے کا درد نسبتاً کم رہا، وہ گھٹنے کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے قابل رہے اور ان میں بعد میں اوسٹیو آرتھرائٹس کی شدت بھی کم دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق مینیسکس گھٹنے میں موجود ایک مضبوط، سی نما کارٹلیج ہوتا ہے جو ران اور پنڈلی کی ہڈیوں کے درمیان جھٹکوں کو جذب کرنے کا کام کرتا ہے۔ اگرچہ یہ اچانک چوٹ یا مڑنے سے پھٹ سکتا ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ اس میں خرابی اور گٹھیا ایک ساتھ پیدا ہونا عام بات ہے۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ٹیپو یاروینن کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ گھٹنے کے درد کی بنیادی وجہ مینیسکس کا پھٹنا ہے، لیکن اب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصور مکمل طور پر درست نہیں۔ ان کے مطابق درمیانی اور زیادہ عمر کے بہت سے افراد میں مینیسکس کے پھٹنے کے باوجود کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ درد کی اصل وجہ صرف یہی مسئلہ نہیں۔
امریکی آرتھوپیڈک ماہرین نے بھی اس تحقیق کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے مریضوں میں وقت گزرنے کے ساتھ سرجری کے باوجود درد اور چلنے پھرنے کی صلاحیت مزید متاثر ہوتی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین نے گھٹنے کے درد کے علاج کے لیے متبادل طریقوں پر زور دیا ہے، جن میں آرام، برف کا استعمال، فزیوتھراپی، سوزش کم کرنے والی ادویات، سائیکلنگ، کورٹیزون انجیکشن، ہائیلورونک ایسڈ اور پلیٹلیٹ رچ پلازما (پی آر پی) تھراپی شامل ہیں۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض شدید یا حادثاتی چوٹوں کے کیسز میں مینیسکس کی مرمت کے لیے سرجری کی ضرورت برقرار رہتی ہے، تاہم عام طور پر ہونے والے مینیسکس کے مسائل میں غیر جراحی طریقہ علاج طویل مدت میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برسوں سے رائج بعض طبی طریقہ کار کو جدید سائنسی شواہد کی روشنی میں دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو زیادہ محفوظ اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے۔











