پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار افتخار ٹھاکر نے کہا ہے کہ انسان کے اندر پیدا ہونے والی حسد، جلن اور منفی سوچ نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتی ہے بلکہ مختلف جسمانی بیماریوں کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
ایک یوٹیوب پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ طبی ماہرین ذہنی دباؤ کو شوگر کے بڑھنے کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک دوسروں کی خوشی اور کامیابی برداشت نہ کرنا بھی انسان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
افتخار ٹھاکر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں اکثر لوگ دوسروں کی ترقی یا خوشحالی دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں اور یہی منفی جذبات رفتہ رفتہ مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان کو دوسروں کے لیے اچھا سوچنا چاہیے کیونکہ نفرت اور حسد خود انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
معروف فنکار نے اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی میں سب سے بڑی طاقت ان کے والد اور والدہ تھے، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے انتقال کے بعد انہیں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی میں اپنائیت کا ایک بڑا سہارا چھن گیا ہو۔
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ چار بچوں کے والد ہیں، جن میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شہرت حاصل کرنے سے پہلے انہوں نے سخت معاشی حالات کا سامنا کیا اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رنگ سازی اور لکڑی کا کام بھی کیا۔
افتخار ٹھاکر نے یہ بھی بتایا کہ وہ کوسٹ گارڈز میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور ایک وقت میں پولیس فورس کا حصہ بھی رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے فن کی دنیا کو اپنا میدان بنا لیا۔ آج وہ پاکستان کے مقبول ترین اسٹیج فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور متعدد بھارتی پنجابی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔











