دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ اپنے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز پر گوگل کروم استعمال کرتے ہیں، تاہم بہت کم صارفین اس کے ایک ایسے بلٹ اِن فیچر سے واقف ہیں جو ویب سائٹس کو پہلے سے زیادہ تیزی سے کھولنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس فیچر کو پری لوڈ پیجز کہا جاتا ہے، جو صارف کے براؤزنگ انداز کا اندازہ لگا کر ممکنہ طور پر کھولے جانے والے صفحات کو پس منظر میں پہلے ہی لوڈ کرنا شروع کر دیتا ہے۔
جب صارف متعلقہ لنک پر کلک کرتا ہے تو مطلوبہ ویب پیج پہلے سے تیار ہونے کی وجہ سے فوراً کھل جاتا ہے، جس سے انتظار کا وقت کم اور براؤزنگ کا تجربہ زیادہ ہموار اور تیز محسوس ہوتا ہے۔
یہ فیچر اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز، آئی فون، ونڈوز پی سی اور میک کمپیوٹر سمیت تقریباً تمام بڑے پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔ صارفین اپنی ضرورت کے مطابق اسٹینڈرڈ پری لوڈنگ یا ایکسٹینڈڈ پرولوڈنگ موڈ منتخب کر سکتے ہیں۔
ایکسٹینڈڈ موڈ زیادہ صفحات کو پیشگی لوڈ کرتا ہے، جس سے رفتار میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
کمپیوٹر پر اس فیچر کو فعال کرنے کے لیے گوگل کروم کھول کر اوپری دائیں جانب موجود تین نقطوں پر کلک کریں، پھر سیٹنگز میں جا کر پرفارمنس سیکشن کھولیں اور پری لوڈپیجز کو آن کر دیں۔ بہتر رفتار کے لیے ایکسٹینڈد پری لوڈنگ کا انتخاب بھی کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین کروم ایپ میں سیٹنگز کے بعد پرائیویسی اینڈ سیکیورٹی کے حصے میں جا کر پری لوڈ پیجز کو فعال کر سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق اسٹینڈرڈ یا ایکٹینڈڈ موڈ منتخب کر سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ فیچر ویب سائٹس کی رفتار بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں موبائل ڈیٹا کے استعمال اور ڈیوائس کی میموری کی کھپت میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، براؤزر بہتر پیش گوئی کے لیے کوکیز کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔ ایسے صارفین جن کے پاس محدود ڈیٹا پلان موجود ہو، ان کے لیے اسٹینڈرڈ موڈ زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جو افراد دن بھر متعدد ویب سائٹس کھولتے ہیں، آن لائن خریداری کرتے ہیں، خبریں پڑھتے ہیں یا سوشل میڈیا پر متحرک رہتے ہیں، وہ اس فیچر کے ذریعے زیادہ تیز اور بہتر براؤزنگ تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ کمزور انٹرنیٹ کنکشن کو تیز نہیں بناتا، لیکن ویب صفحات کو پہلے سے تیار رکھ کر لوڈنگ کے وقت میں نمایاں کمی ضرور لا سکتا ہے۔











