یاسین ایاری نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے اپنے پہلے ہی میچ میں دو شاندار گول کرکے سویڈن کو تیونس کے خلاف بڑی کامیابی دلائی، تاہم اپنے آبائی ملک کے خلاف گول کرنے کے باوجود ان کا پرسکون اور منفرد انداز جشن شائقین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
مونتری میں کھیلے گئے گروپ ایچ کے میچ کے ساتویں منٹ 22 سالہ مڈفیلڈر نے ایک زبردست ہٹ کے ذریعے سویڈن کو برتری دلائی۔ گول کرنے کے بعد انہوں نے روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ہاتھ بلند کیے اور سجدۂ شکر ادا کیا۔
یاسین ایاری کے والد تیونس جبکہ والدہ مراکش سے تعلق رکھتی ہیں، تاہم ان کی پیدائش سویڈن میں ہوئی اور انہوں نے کم عمری میں ہی سویڈن کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کے والد عزوز ایاری نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیٹا اسی ملک کو واپس لوٹانا چاہتا ہے جس نے اسے پرورش اور مواقع فراہم کیے۔
رپورٹس کے مطابق یاسین ایاری کو تیونس کی قومی ٹیم کی جانب سے بھی نمائندگی کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم والد اور بیٹے دونوں نے اسے اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
نوجوان اسٹار نے سات سال کی عمر میں اپنے آبائی شہر سولنا کے کلب راسوندا سے فٹبال کا آغاز کیا، بعد ازاں وہ سویڈن کے معروف کلب اے آئی کے سے منسلک ہوئے اور 2020 میں سینئر ٹیم میں جگہ بنائی۔ 2023 میں انہیں انگلش پریمیئر لیگ کلب برائٹن اینڈ ہوو ایلبیون نے اپنے ساتھ شامل کیا اور اسی سال انہوں نے سویڈن کی قومی ٹیم کے لیے بھی ڈیبیو کیا۔
ورلڈ کپ ڈرا کے بعد یاسین ایاری نے کہا تھا کہ تیونس کے ساتھ ایک ہی گروپ میں آنا ان کے لیے حیران کن تھا۔ تاہم میدان میں انہوں نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے انجری ٹائم میں ایک اور خوبصورت گول داغا اور اس مرتبہ سویڈش شائقین کی داد قبول کرتے ہوئے خوشی کا اظہار بھی کیا۔
یوں تیونسی اور مراکشی ورثے کے حامل اس نوجوان کھلاڑی نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر کا آغاز یادگار انداز میں کرتے ہوئے سویڈن کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔











