پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ نظام میں بڑی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کارکردگی پر مبنی نیا فریم ورک متعارف کرا دیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نئے نظام کے تحت کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کا 85 فیصد حصہ ان کی کارکردگی سے مشروط ہوگا، جبکہ میڈیکل فٹنس کو بھی کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جدید ڈیٹا اینالیٹکس کو شامل کیا جا رہا ہے اور تمام کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت ضروری ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیلیں گے، انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
محسن نقوی کے مطابق نئے نظام کے حوالے سے کھلاڑیوں کو مکمل بریفنگ دی گئی ہے اور انہیں مثبت ردعمل ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے فریم ورک میں ہر چیز کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی ابہام باقی نہ رہے۔
پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے بتایا کہ پرانے کیٹیگری سسٹم کی جگہ پانچ نئے فارمیٹ ٹریکس متعارف کروائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی ضروریات کے مطابق الگ الگ کیٹیگریز بنائی گئی ہیں تاکہ کھلاڑی اپنے مخصوص فارمیٹ اور ترقی کے راستے سے مکمل طور پر آگاہ ہوں۔
عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ پاکستان اس فارمیٹ میں بہتری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس ماڈل کو گزشتہ ایک سال سے ڈومیسٹک کرکٹ میں آزمایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر قومی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ عالمی کرکٹ کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو چکا ہے، اسی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا سینٹرل کنٹریکٹ فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام میں ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے تاکہ کھلاڑیوں کی ترقی کا واضح راستہ متعین کیا جا سکے











