اہم ترین

اسپین کا بڑا اقدام: ڈھائی ماہ میں 12 لاکھ تارکین کی قانونی حیثیت کے لیے درخواستیں

اسپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے حکومتی منصوبے کو غیر معمولی پزیرائی مل رہی ہے، جہاں تقریباً 12 لاکھ افراد نے رہائش اور کام کے قانونی حقوق حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ کے کئی ممالک غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں، مگر اسپین نے نسبتاً نرم اور کھلی پالیسی اپنا کر ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ہسپانوی حکومت کی جانب سے جاری حتمی اعداد و شمار کے مطابق درمیانِ اپریل سے 30 جون تک 11 لاکھ 74 ہزار 978 درخواستیں موصول ہوئیں۔ حکام کے مطابق ان میں سے 6 لاکھ سے زائد درخواستوں پر کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔ یہ وسیع ریگولرائزیشن اسکیم اسپین کی سوشلسٹ حکومت نے اپریل میں شروع کی تھی، جسے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی نسبتاً کھلی امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

درخواست گزاروں میں سب سے بڑی تعداد لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے افراد کی رہی، جنہوں نے مجموعی درخواستوں کا 67 فیصد جمع کرایا۔ ان میں کولمبیا سب سے نمایاں رہا، جس کی شرح تقریباً 25.9 فیصد رہی۔ اس کے بعد مراکش، وینزویلا اور پیرو کے شہری نمایاں تعداد میں سامنے آئے۔ دوسری جانب افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار مجموعی تعداد کا تقریباً 22.9 فیصد رہے۔

اعداد و شمار کے مطابق درخواست دینے والوں کی بڑی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، جہاں 10 میں سے 8 افراد کی عمر 45 سال سے کم ہے۔ مردوں کی شرح 57 فیصد جبکہ خواتین کی شرح 43 فیصد رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپین کی یہ اسکیم خاص طور پر نوجوان ورک فورس کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے، جو ملک کی معیشت میں عملی کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم درخواستوں کی یہ بڑی تعداد اس بات کی ضمانت نہیں کہ سب کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔ اسپین کی حکومت کی ابتدائی پیش گوئی کے مطابق اس اسکیم کے تحت تقریباً 5 لاکھ افراد کو ریگولرائز کیا جا سکے گا۔ درخواست منظور کروانے کے لیے امیدواروں کو صاف مجرمانہ ریکارڈ ثابت کرنا ہوگا، جبکہ یہ بھی دکھانا ہوگا کہ وہ یکم جنوری سے پہلے کم از کم پانچ ماہ مسلسل اسپین میں موجود رہے ہیں۔ حکام کے پاس درخواستوں پر فیصلہ کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت ہوگا، جس کے بعد کامیاب درخواست گزاروں کو اسپین میں رہائش اور کام کا اجازت نامہ جاری کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز اور ان کی حکومت اس پالیسی کو اسپین کی معیشت کے لیے فائدہ مند قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق تعمیرات سمیت کئی شعبوں کو افرادی قوت کی شدید ضرورت ہے، اور یہ اسکیم نہ صرف تارکینِ وطن کو قانونی تحفظ دے سکتی ہے بلکہ اسپین کی لیبر مارکیٹ کو بھی سہارا فراہم کر سکتی ہے۔ اسپین کے کاروباری حلقوں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے معیشت کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے۔

دوسری طرف قدامت پسند اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں اس پالیسی پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی اسکیمیں مزید غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہیں اور یورپ میں پہلے سے موجود سیاسی و سماجی دباؤ کو بڑھا سکتی ہیں۔ یوں اسپین کی یہ امیگریشن پالیسی صرف انتظامی یا انسانی معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ یورپ میں امیگریشن، معیشت اور سیاست کے درمیان جاری کشمکش کی ایک بڑی مثال بن گئی ہے۔

پاکستان