اہم ترین

ورلڈ کپ میں اب منہ چھپا کر بات کرنا بھی خطرناک، فیفا نے سیدھا ریڈ کارڈ نکال دیا

فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں اب صرف ٹیکل، ہاتھاپائی یا خطرناک فاؤل ہی نہیں، بلکہ حریف کھلاڑی سے الجھتے وقت منہ چھپانا بھی سیدھا میدان سے باہر کر سکتا ہے۔ فیفا نے اس بار ایک ایسا قانون سختی سے نافذ کیا ہے جس کا مقصد کھیل کے اندر چھپے ہوئے بدزبانی، نسل پرستانہ جملوں اور توہین آمیز گفتگو کے دروازے بند کرنا ہے۔

نئے قانون کے تحت اگر کوئی کھلاڑی کسی حریف سے تکرار یا جھگڑے کے دوران ہاتھ، بازو یا جرسی سے اپنا منہ ڈھانپ کر بات کرے تو ریفری اسے ریڈ کارڈ دکھا سکتا ہے۔ ورلڈ کپ میں اس قانون پر اب واقعی عمل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اور ایکواڈور کے مدافع پیرو ہنکاپیے اس کی تازہ مثال بن گئے ہیں۔

راؤنڈ آف 32 میں میکسیکو کے خلاف میچ کے آخری لمحات میں ہنکاپیے کی میکسیکن فارورڈ سانتیاگو خیمینیز سے تلخ کلامی ہوئی۔ اسی دوران انہوں نے بات کرتے ہوئے اپنا منہ ڈھانپا، جس پر میچ آفیشلز نے کارروائی کی اور انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ اگرچہ اس فیصلے سے میچ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوا کیونکہ مقابلہ اختتام کے قریب تھا، لیکن اس واقعے نے دنیا بھر کی توجہ اس نئے قانون کی طرف ضرور کھینچ لی۔

فیفا کے مطابق اس پابندی کا اصل مقصد یہ ہے کہ کھلاڑی منہ چھپا کر گالی، نسلی تعصب یا توہین آمیز جملے کہنے کے بعد خود کو کیمروں، مائیکروفونز اور ہونٹوں کی حرکت سے بچا نہ سکیں۔ یعنی اب اگر کوئی کھلاڑی میدان میں زبانی حملہ کرنا چاہتا ہے تو کم از کم اسے چھپا نہیں سکے گا۔ اسی وجہ سے اس قانون کو غیر رسمی طور پر “پریستیانی قانون” بھی کہا جا رہا ہے۔

اس تبدیلی کے پیچھے ایک متنازع واقعہ بتایا جاتا ہے، جب بینفیکا کے ونگر جیانلوکا پریستیانی پر الزام لگا کہ انہوں نے وینیسیئس جونیئر سے گفتگو کے دوران اپنی جرسی سے منہ ڈھانپ لیا تھا تاکہ ان کے الفاظ واضح نہ ہو سکیں۔ اس تنازع کے بعد فیفا نے قوانین میں سختی کے لیے دباؤ ڈالا اور بعد میں انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) نے یہ اصول منظور کر لیا کہ حریف سے تصادم کی کیفیت میں منہ ڈھانپنا ریڈ کارڈ کا باعث بن سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہنکاپیے اس قانون کی زد میں آنے والے پہلے کھلاڑی نہیں۔ اس سے پہلے پیراگوئے کے میگوئل المیرون بھی ترکی کے خلاف میچ میں اسی نوعیت کی حرکت پر ریڈ کارڈ دیکھ چکے ہیں۔ وہ اس قانون کے تحت ورلڈ کپ میں سزا پانے والے پہلے کھلاڑی بنے تھے۔ بعد میں انہیں ایک میچ کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ کا مطلب صرف اسی لمحے میدان سے اخراج نہیں ہوتا، بلکہ اگلے میچ میں خودکار ایک میچ معطلی بھی ساتھ آتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیم باقی میچ 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہو جاتی ہے، جو خاص طور پر ناک آؤٹ مرحلے میں بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ ورلڈ کپ 2026 میں فیفا نے ایک واضح پیغام دیا ہے: اگر بات کرنی ہے تو سامنے کرنی ہے، چھپا کر نہیں۔ اور اگر کوئی کھلاڑی جھگڑے کے دوران منہ ڈھانپ کر کچھ کہنے کی کوشش کرے گا تو اب اس کی قیمت صرف تنبیہ نہیں، بلکہ سیدھا ریڈ کارڈ بھی ہو سکتی ہے۔

پاکستان