لاطینی امریکی ملک کوسٹا ریکا کے سائنس دانوں نے بحرالکاہل میں کیبو بلانکو اور کانو آئی لینڈ کے قریب پانیوں سے گھوسٹ شارک (بھوت شارک) کی ممکنہ نئی قسم دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کی تصدیق کے لیے مزید سائنسی تحقیق جاری ہے۔
آرتورو اینجیلو سیباجا کے مطابق دریافت ہونے والی گھوسٹ شارک کی ناک نسبتاً چھوٹی، جسم کا رنگ زیادہ گہرا اور پشتی (ڈورسل) پر پر موجود کانٹا دیگر اقسام کے مقابلے میں نمایاں طور پر لمبا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس مچھلی کا دیگر معروف گھوسٹ شارک اقسام سے تولیدی تعلق نہیں، جس سے یہ ایک نئی قسم ہونے کا امکان مضبوط ہوتا ہے۔ تاہم پیرو اور چلی کے قریب پہلے دریافت ہونے والے نمونے اس سے کافی مشابہت رکھتے ہیں، اس لیے حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے تمام نمونوں کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق گھوسٹ شارک دراصل کارٹلیج رکھنے والی مچھلیوں کے گروہ رائنوکائمیرا سے تعلق رکھتی ہے، جو شارک سے قریبی رشتہ رکھتی ہے، تاہم ارتقائی اعتبار سے تقریباً 40 کروڑ سال قبل اس سے الگ ہو چکی تھی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس دریافت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ وسطی امریکا کے بحرالکاہل کے ساحل پر دریافت ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی گھوسٹ شارک ہوگی، جبکہ امکان ہے کہ اس کی موجودگی وسطی اور جنوبی امریکا کے بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں مزید وسیع پیمانے پر بھی ہو۔











