امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمتی یادداشت اب اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات یا معاملات کے خواہاں نہیں۔
انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور معاہدے کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں کیونکہ تہران اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے مشاورت کریں گے، تاہم اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہونے ہیں تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کو 17 جولائی تک اس لائسنس کے تحت ہونے والے تمام تجارتی معاملات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔











