چینی اسٹارٹ اپ مون شاٹ اے آئی کے نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل کیمی کے 3 نے امریکی ٹیکنالوجی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین اور امریکا کے درمیان برتری کی دوڑ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
کیمی کے 3 کو جمعرات کے روز متعارف کرایا گیا اور چند ہی گھنٹوں میں یہ ارینا نامی معروف اے آئی کوڈنگ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والا پہلا چینی ماڈل بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق سلیکون ویلی، وال اسٹریٹ اور وائٹ ہاؤس میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر چین امریکی معیار کی مصنوعی ذہانت کم لاگت پر تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اوپن اے آئی اور انتھروپک جیسی امریکی کمپنیاں اپنی مہنگی سروسز کے لیے صارفین کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتی ہیں۔
کیمی کے 3 سے قبل بھی چین کی متعدد اے آئی مصنوعات توجہ حاصل کر چکی ہیں۔ ان ماڈلز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہوتے ہیں اور ان کا سورس کوڈ پروگرامرز اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس پیش رفت کا موازنہ 2025 کے اوائل میں ڈیپ سیک کے طاقتور اے آئی ماڈل سے کیا، جس نے کم لاگت کے باعث امریکی ٹیک کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں سینکڑوں ارب ڈالر کی کمی کا سبب بنا تھا۔
ارینا کے سربراہ اناستاسیوس اینجلوپولوس کے مطابق کیمی کے 3 سرمایہ کاروں کو اے آئی صنعت کے مستقبل پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، کیونکہ بہت سی کمپنیاں مہنگے امریکی ماڈلز کے بجائے مفت یا کم قیمت چینی ماڈلز کو ترجیح دے سکتی ہیں، جنہیں اپنے کمپیوٹرز پر چلایا اور اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے اے آئی مشیر اور سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس نے کہا کہ کیمی کے 3 کی کامیابی اس بات کا اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت میں امریکا کی برتری کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری ضوابط اور پابندیاں امریکا کو عالمی اے آئی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہیں۔
دوسری جانب اوپن اے آئی سے وابستہ سابق وائٹ ہاؤس مشیر ڈین بال نے کہا کہ کیمی کے 3 ایک مضبوط اور منفرد ماڈل ہے، محض امریکی مصنوعات کی نقل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں امریکی حکومت چینی اے آئی مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے ریگولیٹری اقدامات کر سکتی ہے۔
سلیکون ویلی کے معروف سرمایہ کار گیون بیکر کے مطابق کیمی کے 3 کی آمد اوپن اے آئی اور انتھروپک کے لیے منفی جبکہ دنیا کی بیشتر دیگر کمپنیوں کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔











