اہم ترین

بچوں کا آن لائن تحفظ: ٹک ٹاک امریکا میں 111 ارب روپے ادا کرنے کو تیار

ٹک ٹاک اور اس کی چینی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکا میں بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق مقدمہ ختم کرنے کے لیے 40 کروڑ ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ رقم بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قانون چلڈرنز آن لائن پرائیوسی پروٹیکشن ایکٹ (کوپا) سے متعلق مقدمات میں ہونے والی سب سے بڑی وصولیوں میں سے ایک ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے تصدیق کی ہے کہ ٹک ٹاک 30 کروڑ ڈالر (83.27 ارب روپے ) فوری طور پر ادا کرے گا، جب کہ مزید 10 کروڑڈالر(تقریباً 27.76 ارب روپے) اس وقت ادا کیے جائیں گے جب عدالت ٹک ٹاک کی سابقہ کمپنی میوزیکل ڈاٹ ایل وائے کے خلاف پہلے سے موجود رضامندی کے حکم کو ختم کرنے کا حکم جاری کرے گی۔

امریکی محکمہ انصاف اور وفاقی تجارتی کمیشن (ایف ٹی سی) نے 2024 میں ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ حکومت کا الزام تھا کہ پلیٹ فارم نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع اور استعمال کیا اور بچوں کو پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے والدین کو مناسب طور پر مطلع نہیں کیا۔

امریکی قانون کوپا کے تحت ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کو 13 سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات جمع کرنے سے پہلے والدین کو اطلاع اور ان کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔

مقدمے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک کے بچوں کے لیے مخصوص “کڈز موڈ” میں بھی ای میل ایڈریسز اور دیگر ذاتی معلومات جمع کی جاتی تھیں۔ تاہم، محکمہ انصاف کی تازہ وضاحت کے مطابق تصفیہ میں طے پانے والے دعوے صرف الزامات ہیں اور عدالت نے ٹک ٹاک کو ان الزامات کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

اس معاملے کی جڑیں 2019 تک جاتی ہیں، جب امریکا نے میوزیکل ڈاٹ ایل وائے کے خلاف کوپا کی خلاف ورزیوں پر مقدمہ کیا تھا۔ بائٹ ڈانس نے 2017 میں میوزیکل ڈاٹ ایل وائے کو خرید لیا تھا اور بعد میں اسے ٹک ٹاک میں ضم کر دیا گیا۔

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ موجودہ تصفیہ میں ٹک ٹاک، بائٹ ڈانس اور متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ محکمہ کے مطابق مقدمہ دائر ہونے کے بعد ٹک ٹاک نے ملکیت، انتظامیہ، کمپلائنس اور پرائیویسی کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں اور کم عمر صارفین کے لیے حفاظتی اقدامات اور والدین کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

امریکا کا یہ تصفیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں ٹک ٹاک کے خلاف بچوں کی حفاظت سے متعلق کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔

یورپی کمیشن نے 24 جولائی 2026 کو ابتدائی طور پر قرار دیا تھا کہ ٹک ٹاک پر کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس یورپی یونین کے ڈیجیٹل سیفٹی ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت مطلوبہ حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ کمیشن کے مطابق بعض کم عمر صارفین اپنے اکاؤنٹس پبلک کر سکتے ہیں، جس سے ان کا مواد غیر متعلقہ افراد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ 16 اور 17 سال کے صارفین کا عوامی مواد “فار یو” فیڈ کے ذریعے دوسرے صارفین کو بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں بھی ریگولیٹر آفکوم نے 16 جولائی 2026 کو ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا ٹک ٹاک برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکت کے تحت بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے یا نہیں۔

ٹک ٹاک کے خلاف حالیہ امریکی، یورپی اور برطانوی کارروائیاں اس وسیع عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جس میں حکومتیں اور ریگولیٹرز سوشل میڈیا کمپنیوں سے بچوں کے ڈیٹا، پرائیویسی، عمر کی تصدیق اور آن لائن حفاظت کے حوالے سے زیادہ سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق موجودہ تصفیہ کا مقصد مالی وصولی کے ساتھ ساتھ بچوں اور خاندانوں کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان