دنیا بھر کے 22 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف سے سابق وزیراعظم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے طبی علاج اور صحت سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی اپیل کردی ہے۔
کرک انفو کے مطابق عمران خان کے علاج کے لئے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، سنیل گواسکر، ڈیوڈ گاور، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناتنگا، اسٹیو وا، اینڈریو اسٹراس، ناصر حسین، ایڈم گلکرسٹ اور جان رائٹ سمیت کرکٹ کی دنیا کے معروف سابق کپتان شامل ہیں۔
سابق کرکٹرز نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جہاں ان کا معائنہ ایسے میڈیکل بورڈ سے ہونا تھا جس میں ان کے ذاتی معالجین اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان بھی شامل ہوں۔ عدالت نے ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بھی بحال کی تھیں۔
خط میں کہا گیا کہ عمران خان کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں ان کا قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا۔ ان کا معائنہ عدالت کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ٹیم نے کیا، جس نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔
سابق کپتانوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ، جس میں عمران خان کے اپنے ڈاکٹرز بھی شامل ہوں، انہیں مکمل اور آزادانہ طبی معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے، بالخصوص دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی متاثر ہونے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے بحال کی گئی ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بغیر کسی رکاوٹ یا انتظامی تاخیر کے یقینی بنائی جائیں۔ ساتھ ہی طبی معائنے کے نتائج کی بنیاد پر تجویز کیا جانے والا علاج بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔
سابق کرکٹرز نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں فیصلہ سنانے کی کوشش نہیں کر رہے بلکہ سابق ساتھی اور حریف کی حیثیت سے عمران خان کی صحت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ وزیراعظم کو سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران دوسرا خط ہے۔ رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے بھی عمران خان کی صحت، بالخصوص آنکھ کی شکایت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاج کی اپیل کی تھی۔











