شام کی ایک عدالت نے معزول صدر بشار الاسد کے دور کے سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کو متعدد جرائم میں ملوث قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دمشق کی فوجداری عدالت نے پیر کے روز فیصلہ سنایا۔
حسون پر تشدد پر اکسانے، ہلاکتوں کو جائز قرار دینے اور اپنے سرکاری مذہبی عہدے کا ناجائز استعمال کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔
بشار الاسد کے اہم مذہبی حامی
احمد بدرالدین حسون 2005 سے 2021 تک تقریباً 16 سال شام کے مفتی اعظم رہے۔ وہ بشار الاسد حکومت کے اہم مذہبی حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور شام کی خانہ جنگی کے دوران حکومت کے حق میں متعدد بیانات دیتے رہے۔
ان کے بیانات اور اسد حکومت کی حمایت کے باعث بعض حلقوں نے انہیں ’’بیرل بم مفتی‘‘ کا نام بھی دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومت کے اقدامات کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔
حسون مذہبی مواقع پر اکثر بشار الاسد کے ساتھ بھی نظر آتے تھے۔
سابق مفتی اعظم کو مارچ 2025 میں دمشق کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے تقریباً ایک ماہ قبل وہ طویل عرصے تک منظر سے غائب رہنے کے بعد دوبارہ سامنے آئے تھے۔
ان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت 25 جون کو شروع ہوئی، جس کے بعد عدالت نے پیر کے روز حتمی فیصلہ سناتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا دے دی۔
احمد بدرالدین حسون نئی شامی حکومت کے دور میں سزا پانے والے بشار الاسد حکومت کے دسویں اہم عہدیدار ہیں۔ ان کی سزا اسد دور کے اہلکاروں کے خلاف جاری قانونی کارروائی میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔











