اہم ترین

امریکا کینیڈا ٹیرف جنگ مزید شدت اختیار کرگئی

کینیڈا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے نئے 50 فیصد ٹیرف کے جواب میں آج اپنے اقدامات کا اعلان کرے گا، جس کے ساتھ دونوں تاریخی اتحادیوں کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکا نے ہفتے سے کینیڈین مصنوعات کی ایک بڑی تعداد پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کردیا ہے، جن میں ہاکی اسٹکس سے لے کر سیمنٹ تک مختلف اشیا شامل ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق نئے ٹیرف سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات متاثر ہوں گی۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ امریکی ٹیرف کے جواب میں جوابی محصولات 8 ستمبر سے نافذ کیے جائیں گے۔

تجارتی تنازع اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب صدر ٹرمپ نے کینیڈین گاڑیوں پر موجودہ 25 فیصد ٹیرف کو آئندہ سال بڑھا کر 50 فیصد کرنے کی دھمکی دی۔

اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو بجلی کی برآمد پر اضافی سرچارج عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

ادھر ٹرمپ اور وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان لفظی جنگ بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔ ٹرمپ نے کارنی کو ’’گورنر‘‘ کہہ کر ایک بار پھر کینیڈا کے امریکا کی 51ویں ریاست بننے کا متنازع مطالبہ دہرایا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی صرف تجارت تک محدود نہیں۔ کارنی کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکی حکام نے کینیڈا کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں اور فرانسیسی زبان و کیوبیک کی ثقافت سے متعلق بھی ناقابل قبول مطالبات کیے

پاکستان