اسرائیلی فورسز نے منگل کے روز فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے انرواکے زیر انتظام قائم پیشہ ورانہ تربیتی مرکز سے انخلا شروع کردیا۔
یہ مرکز مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے کفر عقب اور قلندیہ پناہ گزین کیمپ کے درمیان واقع ہے اور 1952 سے قائم ہے۔ انرواکے مطابق یہاں ہر سال مقبوضہ مغربی کنارے سے تقریباً 340 فلسطینیوں کو فنی تربیت دی جاتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق یہ کارروائی اس قانون کے تحت کی جارہی ہے جس کے ذریعے اسرائیل نے انرواسے تعلقات ختم اور اسرائیلی سرزمین پر اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی ہے۔
اسرائیل کا الزام ہے کہ انرواکے بعض ملازمین حماس کے جنگجوؤں کو سہولت فراہم کرتے رہے اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں بھی کچھ ملازمین کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم فرانس کی سابق وزیر خارجہ کیتھرین کولونا کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات سمیت متعدد جائزوں میں انرواکے حوالے سے غیر جانب داری سے متعلق بعض مسائل کی نشاندہی تو کی گئی، لیکن اسرائیل کی جانب سے ملازمین کے بڑے پیمانے پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام کے لیے حتمی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پولیس اور متعلقہ ادارے قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے انرواکو علاقے سے ہٹا رہے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فورسز نے تربیتی مرکز کے اطراف مرکزی سڑک بند کردی، جبکہ اہلکار مرکز کے مختلف حصوں میں داخل ہوتے رہے۔ تین گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ بھی اسرائیلی فورسز کی نگرانی میں مرکز سے نکلتا دیکھا گیا۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کی مراعات و استثنیٰ کو چیلنج کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل 25 سے زائد سفارتی مشنز اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے تربیتی مرکز کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیل نے جنوری 2025 میں انرواپر پابندی کے بعد مشرقی یروشلم میں اس کے ہیڈکوارٹرز کی مسماری بھی شروع کردی تھی۔











