امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے سخت معاشی پابندیوں اور اقتصادی تنہائی کی نئی مہم نے خلیجی ممالک کو ایک مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن تہران پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنے شرائط پر امن معاہدے کے لیے آمادہ کرنا چاہتا ہے، لیکن خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ معاشی دباؤ بڑھنے کی صورت میں ایران خطے میں مزید حملوں کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو ایران کے خلاف “آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ” کا اعلان کرتے ہوئے تہران کے باقی ماندہ آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا۔
نئی پابندیوں کا دائرہ ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری تجارت تک پھیلایا گیا ہے۔ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے بینکوں اور کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آنے سے خبردار کیا ہے۔
خلیج پھر نشانے پر؟
خلیجی ممالک کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کی فوجی موجودگی انہیں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے تحفظ تو فراہم کرتی ہے، لیکن یہی امریکی اڈے اور تنصیبات انہیں ایرانی جوابی کارروائی کے ممکنہ اہداف بھی بنا دیتی ہیں۔
اب واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی جنگ میں ساتھ دینے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں میں شمولیت انہیں مزید براہ راست تنازع میں دھکیل سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز سب سے بڑا خطرہ
ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کرچکا ہے۔ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور قدرتی گیس معمول کے حالات میں اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے کے ممالک امریکی اقتصادی جنگ کا حصہ بنے تو خلیج فارس سے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ صورتحال سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان کے لیے خاص طور پر حساس ہے، کیونکہ ان کی معیشتیں توانائی کی برآمدات اور عالمی بحری تجارت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
یو اے ای نے پہل کردی
خلیجی ریاستوں میں متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف سب سے سخت قدم اٹھاتے ہوئے گزشتہ ہفتے تہران سے اقتصادی اور تجارتی روابط ختم کرنے کا اعلان کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ابوظبی کا یہ فیصلہ مکمل طور پر نافذ ہوا تو یہ ایران کے لیے اس جنگ کا سب سے بڑا اقتصادی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ دبئی طویل عرصے سے ایران کے لیے غیر ملکی کرنسی اور درآمدی اشیا تک رسائی کا اہم مرکز رہا ہے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان فوری طور پر یو اے ای کی پیروی نہیں کریں گے۔
قطر کے لیے ایل این جی بڑا مسئلہ
قطر کے لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ متبادل راستوں کے ذریعے بعض تیل کی ترسیل ممکن ہے، لیکن مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی اور بعض پیٹروکیمیکل مصنوعات کو دوسرے راستوں سے منتقل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
قطر ایران کے ساتھ ایک وسیع گیس فیلڈ بھی شیئر کرتا ہے، جبکہ دوحا تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کررہا ہے۔ یہی عوامل اسے تہران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔
عمان کا سفارتی کردار داؤ پر
عمان کی پوزیشن بھی منفرد ہے۔ مسقط طویل عرصے سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے لیے اہم ثالث رہا ہے۔ ایران اور امریکا دونوں سے سفارتی روابط برقرار رکھنا اس کردار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
عمان اس وقت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات بھی کررہا ہے، اس لیے مسقط کے لیے واشنگٹن کی اقتصادی مہم میں کھل کر شامل ہونا آسان نہیں۔
سعودی عرب محتاط کیوں؟
سعودی عرب نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم میں تیزی سے شامل ہونے کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
ریاض نے گزشتہ برسوں میں تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی اپنائی، جس کے نتیجے میں 2023 میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔
سعودی قیادت ایران کو کمزور ضرور دیکھنا چاہتی ہے، لیکن ایرانی حکومت کے ممکنہ انہدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی سے بھی خوفزدہ ہے۔
اس کے علاوہ ایران یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے سعودی مفادات پر حملوں کا خطرہ بھی ریاض کو واشنگٹن کی سخت گیر پالیسی سے محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
ایران کا ممکنہ ردعمل
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کا خیال ہے کہ معاشی دباؤ ایران کو مذاکرات اور رعایتوں پر مجبور کرسکتا ہے، لیکن تہران کا ماضی اس کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔
ایرانی ردعمل کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں واقعی ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے لگیں تو تہران دباؤ قبول کرنے کے بجائے کشیدگی بڑھانے کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔
خلیج کا مشکل انتخاب
خلیجی ممالک کے سامنے اب بنیادی سوال یہی ہے کہ امریکی پابندیوں کا ساتھ دیا جائے یا ایران کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھے جائیں؟
میزائل حملوں کے مقابلے میں معاشی دباؤ بظاہر کم خطرناک دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر پابندیاں ایران کو مزید جارحانہ ردعمل پر مجبور کرتی ہیں تو خلیجی ریاستیں ایک بار پھر حملوں، توانائی کی تنصیبات کو خطرات اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے مسائل سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
اسی لیے خلیجی دارالحکومتوں کا جھکاؤ فی الحال مزید پابندیوں کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ مگر اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کا دروازہ بند رہا تو یہ سفارتی راستہ بھی خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک تصادم سے بچانے کے لیے کافی ثابت ہوگا یا نہیں، یہی اصل سوال ہے۔











