اہم ترین

بچے کی ہاتھ میں مانع حمل کوائل تھامے تصویر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی

بچوں کی پیدائش میں وقفے کے لئے آج کل کئی طریقے آگئے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں ناں کہ جسے دنیا میں آنا ہوتا ہے وہ آکر ہی رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ برازیل میں ہوا ہے ۔ جسے دنیا میں آنے سے جدید ترین ٹیکنالوجی بھی نہ روک سکی۔

برازیل میں ایک نومولود بچے کی تصویر نے انٹرنیٹ پردھوم مچارکھی ہے۔ اس تصویر میں بچہ ہاتھ میں مانع حمل کوائل تھامے ہوئے ہے۔ یہ وہی آلہ تھا جو اس کی ماں کو حمل سے روکنے کے لیے اپنے رحم میں لگایا تھا۔

بین الاقوامی انگریزی نیوز ویب سائیٹ میٹر کی رپورٹ کے مطابق، میتھیوز گیبریل نامی اس بچے کی پیدائش برازیل کے علاقے گوئاس میں ساگرادو کوراکسو ڈی جی سس نامی اسپتال میں ہوئی۔

بچےکی ماں کوئڈی آراوجو ڈی اولیویرا نے حمل روکنے کے لئے گزشتہ 2 برس سے دنیا بھرمیں سب سے موثر سمجھا جانے والا دھاتی تار والا آلہ (آئی یو ڈی) لگارکھا تھا۔ طبی ماہرین اس آلے کو حمل روکنے میں 99 فیصد سے زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں۔

انگریزی حرف تہجی میں ٹی کی شکل کا یہ آلہ حمل کو روکنے کے لیے رحم کے اندر رکھا جاتا ہے۔ اس میں موجود تانبے کےتار سے دوران مباشرت نطفوں کے لیے ناموافق ماحول بنتا ہے۔

خاتون کو طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔ چونکہ کوائل ابھی بھی اپنی جگہ پر تھی، ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے ہٹانے سے حمل کو خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے یہ مکمل طور پر اس کے رحم میں ہی رہا۔

دوران حمل خاتون کو شدید طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون نے رب کی مرضی سمجھ کرتمام مشکلات جھیلیں اور بالآخر تمام تر درد اور مصائب کے بعد اس کے بچے کا محفوظ جنم ہوا۔

بچے کے جنم کے وقت وہاں موجود ڈاکٹر ناتالیہ روڈریگس نے خاتون کے رحم سے آئی یو ڈی نکال کر بچےکے ہاتھ میں تھما دی۔

زچگی کے کمرے میں لی گئی ایک تصویر میں میتھیاس کو آلے کو ایسے پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے جیسے وہ کوئی چھوٹی ٹرافی ہو۔ بچےکا نام میتھیوز گیبریل رکھا گیا۔

نتالیہ روڈریگس نے انسٹاگرام پر میتھیوز گیبریل کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا تھا: “اپنی فتح کی ٹرافی پکڑے ہوئے: وہ آئی یو ڈی جو مجھے سنبھال نہ پائی!”

پاکستان