امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کی جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں تاریخی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات میں بہتری، ٹیرف میں نرمی، اور عالمی تنازعات پر تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چین سے آنے والی فینٹانائل کی درآمد پر عائد 20 فیصد ٹیکس کو کم کرکے 10 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات بہترین رہی، ہم نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں جن سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق چین جلد ہی امریکا سے سویا بین کی خریداری دوبارہ شروع کرے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کی علامت ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ چین کے ساتھ نایاب معدنیات سے متعلق تمام معاملات طے پا چکے ہیں اور اب اس شعبے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ہم نے تجارتی مسائل کے علاوہ کئی عالمی امور پر بھی بات چیت کی ہے، اور پیش رفت بہت حوصلہ افزا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں یوکرین جنگ کے حل کے لیے چین کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔البتہ تائیوان کے معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے یوکرین جنگ کے ممکنہ حل پر چین کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپریل 2026 میں چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جب کہ چینی صدر شی جن پنگ اس کے بعد امریکا کا دورہ کریں گے۔یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکراتی سلسلے کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔











