اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا اور وہ بدستور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا پابند ہے۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گروسی نے بتایا کہ جب بھی نیویارک یا ویانا میں ایران سے متعلق قراردادیں منظور کی جاتی ہیں تو تہران کا ردِعمل سخت اور جذباتی ہوتا ہے، جس کے باعث بعض اوقات ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون میں کمی آ جاتی ہے۔ انہوں نے اس رجحان پر افسوس کا اظہار کیا۔
گروسی کے مطابق حال ہی میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے “اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کرنے کے فیصلے پر ایران نے بھی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون کا ازسرِنو جائزہ لینے کا عندیہ دیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی حکام نے اپنی گفتگو میں اس بات کا دوبارہ اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے اندر رہنا چاہتے ہیں، جسے گروسی نے ایک “دانشمندانہ اور ذمہ دارانہ قدم” قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ کشیدگی کے دوران حفاظتی وجوہات کی بنا پر آئی اے ای اے کو اپنے معائنہ کار واپس بلانے پڑے، مگر اس کے بعد سے وہ تہران کے ساتھ روابط بحال کرنے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گروسی کے مطابق وہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ان کے بقول آئی اے ای اے کی جون کی رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس کوئی فعال جوہری ہتھیاروں کا پروگرام موجود نہیں، اور ادارے کو ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی جو اس تاثر کو درست ثابت کرے۔
28 اگست کو فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کے لیے اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی شرائط کی پاسداری نہیں کی ۔
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے، جس کا مقصد توانائی کی پیداوار اور سائنسی ترقی ہے، ہتھیاروں کی تیاری نہیں۔











