اہم ترین

ایران میں مظاہرے: واشنگٹن اور تہران کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

ایران اس وقت شدید معاشی دباؤ اور مہنگائی کے باعث عوامی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف شہروں اور صوبوں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا آغاز تہران میں تاجروں کی جانب سے دکانیں بند کرنے سے ہوا، جو بعد ازاں دیگر علاقوں تک پھیل گئے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اقتصادی جمود نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ مظاہرے ایک داخلی معاشی مسئلے کا نتیجہ ہیں، تاہم بعض بیرونی عناصر اس صورتحال کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں میں چند افراد کی ہلاکت افسوسناک ہے، لیکن سکیورٹی فورسز کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بعض حلقے حالات کو بگاڑنے کے درپے ہیں۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر دی گئی دھمکیوں کو ایران نے اپنے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی خودمختار ملک کے داخلی مسائل کو جواز بنا کر بیرونی دباؤ یا دھمکیاں دینا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کو ہوا دینے میں امریکہ اور اسرائیل کا کردار شامل ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی ایسے حالات میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بیانات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی واشنگٹن پر عائد ہو گی۔

علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ ایران کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے اور خود امریکہ کے مفادات کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی قیادت کو مہم جوئی کے بجائے اپنے فوجیوں اور عوام کے مفادات کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ایران ایک بار پھر اس دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جو معاشی پابندیوں، بیرونی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا تمام عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان