وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور انہیں نیویارک منتقل کیے جانے کے بعد لاطینی امریکا میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ کولمبیا اور وینزویلا کی سرحد پر سرگرم بائیں بازو کی مسلح تنظیموں نے امریکہ کے خلاف مسلح مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے۔
کولمبیا کی طاقتور گوریلا تنظیم نیشنل لبریشن آرمی (ای ایل این) نے واشنگٹن کے اقدامات کو سامراجی منصوبہ قرار دیتے ہوئے تمام محب وطن قوتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وینزویلا اور گلوبل ساؤتھ کے خلاف امریکی عزائم کا مقابلہ کریں۔
ای ایل این نہ صرف کولمبیا وینزویلا سرحد پر کوکین اسمگلنگ کے اہم راستوں پر قابض ہے بلکہ اس کے پشت پناہی کے ٹھکانے وینزویلا کے اندر بھی موجود ہیں، جنہیں سابق صدر مادورو کی حکومت کی جانب سے برداشت کیا جاتا رہا۔
ایف اے آر سی کے باغی بھی میدان میں آ گئے
کولمبیا کی تحلیل شدہ باغی تنظیم فارک کے منحرف دھڑوں نے بھی امریکا کے خلاف مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ امریکی سلطنت کے خلاف آخری قطرہ خون تک لڑنے کے لیے تیار ہیں،
واضح رہے کہ یہ دھڑے ای ایل این کے ساتھ وینزویلا کے قریب واقع منشیات پیدا کرنے والے علاقوں پر کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار رہے ہیں۔
کولمبیا میں خوف، اگلا نشانہ بننے کا خدشہ
ہفتے کے روز امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد کولمبیا میں یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ کیا امریکہ کا اگلا ہدف کولمبیا ہو سکتا ہے؟
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو کو سخت اور توہین آمیز وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کوکین بنا رہے ہیں اور امریکہ بھیج رہے ہیں، اس لیے اسے ہوشیار رہنا چاہیے۔
کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے امریکی کارروائی کو لاطینی امریکا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کی سرحد پر فوجی کمک روانہ کر دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا پر امریکی کارروائی نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا ہے بلکہ کولمبیا، وینزویلا اور پورے لاطینی امریکا کو ایک نئے مسلح تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال امریکا اور بائیں بازو کی مسلح تنظیموں کے درمیان ایک طویل اور خطرناک تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔











