اہم ترین

امریکا عالمی موسمیاتی معاہدے یو این ایف سی سی سی سے دستبردار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایک بنیادی اور تاریخی عالمی موسمیاتی معاہدے اقوام متحدہ فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (یو این ایف سی سی سی)سے دستبردار ہو رہا ہے، جو تمام بڑے عالمی ماحولیاتی معاہدوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جاری اعلامیے میں 66 عالمی تنظیمیں اور معاہدوں کو امریکا کے مفادات کے خلاف قرار دے دیا گیا ہے۔ جن میں سے تقریباً آدھے اقوام متحدہ سے وابستہ ہیں۔

موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوسل فیولز کے زبردست حامی ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے سائنسی اتفاقِ رائے کو پہلے ہی دھوکا اور فریب قرار دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ یو این ایف سی سی سی 1992 میں ریو ارتھ سمٹ کے موقع پر منظور ہوا تھا اور اسی سال امریکی سینیٹ نے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور میں اس کی توثیق کی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق امریکی آئین معاہدوں میں شمولیت کا طریقہ تو بتاتا ہے، مگر ان سے نکلنے کے طریقہ کار پر خاموش ہے، جس سے عدالتی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ پہلے ہی پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکا کو نکال چکے ہیں، جیسا کہ وہ اپنے پہلے دورِ صدارت (2017–2021) میں بھی کر چکے تھے، جسے بعد میں صدر جو بائیڈن نے بحال کیا تھا۔

اب بنیادی معاہدے سے علیحدگی مستقبل میں کسی بھی امریکی واپسی کو قانونی طور پر مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

ماحولیاتی تنظیم سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کی سینئر وکیل جین سو نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یو این ایف سی سی سی سے نکلنا پیرس معاہدے سے نکلنے سے کہیں زیادہ سنگین قدم ہے۔ صدر کے پاس سینیٹ کی منظوری کے بغیر ایسا کرنے کا اختیار نہیں۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکا کی عالمی قیادت کو کمزور اور مستقبل کی معیشت میں ہمارے مقابلے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس کا فائدہ چین اٹھا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ہدایت کے تحت امریکا انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی)، انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی، یو این اوشئینز اور یو این واٹرسمیت متعدد ماحولیاتی اداروں سے بھی علیحدہ ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ امریکا یونیسکو، عالمی ادارہ صحت اور مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اور ورلڈ فوڈ پروگرام سے بھی یا تو نکل چکا ہے یا فنڈنگ میں شدید کمی کر چکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان اداروں پر ترقی پسند نظریات کے فروغ اور امریکی خودمختاری محدود کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ڈی ای آئی، صنفی مساوات اور موسمیاتی نظریات کے نام پر عالمی ادارے گلوبلسٹ ایجنڈا چلا رہے ہیں۔

ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہاں تک کہا تھاآخر اقوام متحدہ کا مقصد کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی ماحولیاتی سیاست میں ایک نئے بحران کا آغاز ہو سکتا ہے۔

پاکستان