اہم ترین

امریکا میں بجلی مہنگی: بٹ کوائن مائننگ میں نمایاں کمی

امریکا میں حالیہ برفانی طوفانی اور بڑھتی بجلی کی قیمتوں نے بٹ کوائن مائننگ کی صنعت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیکساس اور جارجیا جیسے بڑے مائننگ ہبز میں پچھلے ہفتے مائننگ کے لیے استعمال ہونے والی کمپیوٹنگ پاور (ہیش ریٹ) میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بلوم برگ کے مطابق بٹ کوائن مائننگ کے لیے خصوصی کمپیوٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، جو غیر معمولی مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ونٹر اسٹورمز کی وجہ سے پرانے گرڈز پر دباؤ بڑھ گیا اور بجلی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اس کے نتیجے میں کئی بڑی امریکی مائننگ کمپنیوں نے اپنے آپریشنز محدود یا عارضی طور پر بند کر دیے۔

لُکسر ٹیکنالوجی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایتھن ویرا کے مطابق بڑی بٹ کوائن مائننگ فرمیں اپنے ریونیو، بجلی کی قیمتوں اور گرڈ کے انسینٹیوز کو دیکھ کر اپنی مشینیں ایک مخصوص رفتار پر چلا رہی ہیں۔

ٹیکساس میں کچھ مائننگ کمپنیوں نے ڈیمانڈ ریسپانس پروگرام میں حصہ لیا، جس کے تحت وہ پہلے سے خریدی گئی بجلی کو واپس گرڈ کو فروخت کر سکتی ہیں۔ تاہم دیگر کمپنیوں نے زیادہ بجلی کے نرخوں کی وجہ سے اپنی مشینیں بند کرنی پڑیں۔

امریکا میں مائننگ کی کمی سے دیگر ممالک کے مائنرز کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ کم مقابلے کی وجہ سے ان کے لیے ٹرانزیکشن بلاکس کو پروسیس کرنا اور ریوارڈ جیتنا آسان ہو جائے گا۔

مائننگ پول اسٹیٹس نامی ویب سائیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق فاؤنڈری یو ایس اے اور لُکسر کے آؤٹ پٹ میں کمی کے باعث امریکی ہیش ریٹ میں زبردست کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

ٹیکساس، جارجیا، اور دیگر شمالی مشرقی ریاستیں ونٹر اسٹورمز اور پاور گرڈ پر دباؤ کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ہیش ریٹ تقریباً 350 ایگزاہیش فی سیکنڈ ہے۔۔ جس میں امریکی حصہ 30 سے 35 فیصد بنتا ہے۔ جو اس وقت گھٹ کر 20 فیصد رہ گیا۔ اگر امریکا میں مائننگ کی سرگرمیاں مستقل طور پر کم رہیں، تو بٹ کوائن کی قیمت اور مائننگ انڈسٹری کے عالمی توازن پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔۔

پاکستان