اہم ترین

کنٹونمنٹ بورڈ ملازمین سرکاری ملازمین کی تعریف پر پورا نہیں اترتے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے ملازمین کو سول سرونٹس کی تعریف میں شامل نہیں کیا جا سکتا اور اسی بنیاد پر فیڈرل سروس ٹریبونل کا 20 نومبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سروس ٹریبونلز ایکٹ میں سیکشن 2 اے کے خاتمے کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ کے ملازمین فیڈرل سروس ٹریبونل سے رجوع نہیں کر سکتے۔ ان کے سروس معاملات پاکستان کنٹونمنٹ سرونٹس رولز 1954 کے تحت چلیں گے۔ متاثرہ ملازمین محکمانہ کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے تحت رجوع کر سکتے ہیں۔

عدالت نے خاص طور پر ملازم قیصر محمود کے کیس میں ہدایت دی کہ کنٹونمنٹ بورڈ سیالکوٹ تین ماہ کے اندر نئی انکوائری مکمل کرے اور ملازم کو دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔ یہ انکوائری سرکاری رہائش گاہ کرائے پر دینے اور غیر حاضری کے الزام سے متعلق ہے، جس کی بنیاد پر پہلے ملازم کو برخاست کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کنٹونمنٹ بورڈ حکام کی یقین دہانی کے بعد نئی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

پاکستان