ملکی معیشت میں ایک جانب صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے تو دوسری جانب مہنگائی، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور بڑھتے حکومتی قرضے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں آٹو سیکٹر نے غیر معمولی ترقی ریکارڈ کی، جہاں گاڑیوں کی سالانہ فروخت میں 106.9 فیصد جبکہ ٹریکٹرز کی فروخت میں 76.3 فیصد اضافہ ہوا۔ آٹو فنانسنگ کا حجم بھی 36.6 فیصد بڑھ کر 360 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
زرعی شعبے میں کھاد کی طلب بڑھنے سے فروخت میں 84.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث سیمنٹ کی فروخت 11.1 فیصد اضافے کے ساتھ 39 لاکھ ٹن تک جا پہنچی۔ بڑی صنعتوں کے ترقیاتی انڈیکس میں بھی ایک سال کے دوران 11.1 فیصد اضافہ ہوا اور انڈیکس 124.9 کی سطح پر آگیا۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی۔ درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت زون سے نکل کر منفی میں چلا گیا اور خسارہ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درآمدی بل تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق خالص بیرونی سرمایہ کاری میں 69.5 فیصد کمی ہوئی اور حجم صرف 5 کروڑ 45 لاکھ ڈالر رہ گیا۔ تاہم اسٹاک مارکیٹ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 100 انڈیکس میں ماہانہ 9.6 فیصد اور سالانہ 46.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔
ادھر حکومتی قرضے بھی خطرناک حد عبور کرتے ہوئے 80 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جس پر ماہرین نے مالی نظم و ضبط بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


